تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 86

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۶ سورة الجن نورانی طاقت جو میں پھیلاتے ہیں اور ہر یک شہاب جو حرکت کرتا ہے وہ اپنے ساتھ ایک ملکی نور رکھتا ہے کیونکہ فرشتوں کے ہاتھ سے برکت پا کر آتا ہے اور شیطان سوزی کا اس میں ایک مادہ ہوتا ہے۔پس یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ جنات تو آگ سے مخلوق ہیں وہ آگ سے کیا ضر ر ا ٹھا ئیں گے۔کیونکہ در حقیقت جس قدر ری شہب سے جنات کو ضرر پہنچتا ہے اس کا یہ ظاہری موجب آگ نہیں۔بلکہ وہ روشنی موجب ہے جو فرشتہ کے نور سے شہب کے ساتھ شامل ہوتی ہے جو بالخاصیت محرق شیاطین ہے۔اس ہماری تقریر پر کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ یہ تمام تقریر صرف بے ثبوت خیالات اور غایت کار خطابیات میں سے ہے جس کا معقولی طور پر کوئی بھی ثبوت نہیں کیونکہ ہم اس بات کو بخوبی ثابت کر چکے ہیں کہ اس عالم کی حرکات اور حوادث خود بخود نہیں اور نہ بغیر مرضی مالک اور نہ عبث اور بے ہودہ ہیں بلکہ در پردہ تمام اجرام علوی اور اجسام سفلی کے لیے منجانب اللہ مد بر مقرر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں ملائک کہتے ہیں اور جب تک کوئی انسان پابند اعتقاد وجود ہستی باری ہے اور دہر یہ نہیں اس کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ یہ تمام کاروبار عبث نہیں بلکہ ہر یک حدوث اور ظہور پر خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت بالا رادہ کا ہاتھ ہے اور وہ ارادہ تمام انتظام کے موافق بتوسط اسباب ظہور پذیر ہوتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے اجرام اور اجسام کو علم اور شعور نہیں دیا اس لئے ان باتوں کے پورا کرنے کے لیے جن میں علم اور شعور درکار ہے ایسے اسباب یعنی ایسی چیزوں کے توسط کی حاجت ہوئی جن کو علم اور شعور دیا گیا ہے اور وہ ملائک ہیں۔اب ظاہر ہے کہ جب ملائک کی یہی شان ہے کہ وہ عبث اور بے ہودہ طور پر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی تمام خدمات میں اغراض اور مقاصد ر کھتے ہیں اس لئے ان کی نسبت یہ بات ضروری طور پر ماننی پڑے گی کہ رجم کی خدمت میں بھی ان کا کوئی اصل مقصد ہے اور چونکہ عقل اس بات کے درک سے قاصر ہے کہ وہ کون سا مقصد ہے اس لئے اس عقدہ کے حل کے لیے عقل سے سوال کرنا بے محل سوال ہے اگر عقل کا اس میں کچھ دخل ہے تو صرف اس قدر کہ عقل سلیم ایسے نفوس کے افعال کی نسبت کہ جو ارادہ اور فہم اور شعور رکھتے ہوں ہرگز یہ تجویز نہیں کر سکتی کہ ان کے وہ افعال عبث اور بے ہودہ اور اغراض صحیحہ ضرور یہ سے خالی ہیں۔پس اگر عقل سلیم اول اس بات کو بخوبی سمجھ لے کہ جو کچھ اجرام اور اجسام سماوی و ارضی اور کائنات الجو میں انواع اقسام کے تغیرات اور تحولات اور ظہورات ہورہے ہیں وہ صرف عمل ظاہر یہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان تمام حوادث کے لیے اور علل بھی ہیں جو شعور اور ارادہ اور فہم اور تدبیر اور حکمت رکھتے ہیں تو اس سمجھ کے بعد ضرور عقل اس