تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 84
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد سورة الجن روحانی سلسلہ کے بڑے بڑے کام ظہور میں آنے والے تھے اور خدا تعالیٰ اپنے ایک بندہ کے توسط سے دین توحید کے تازہ کرنے کے لیے ارادہ فرما رہا تھا اس لئے اس نے اس انیسویں صدی عیسوی میں کئی دفعہ کثرت سقوط شہب کا تماشہ دکھلا یا تا وہ امر موکد ہو جاوے جس کا قطعی طور پر اس نے ارادہ فرمادیا ہے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس تساقط شہب کو جس کے اسباب بتمامہا بظاہر مادی معلوم ہوتے ہیں رجم شیاطین سے کیا تعلق ہے اور کیوں کر معلوم ہو کہ در حقیقت اس حادثہ سے شیاطین آسمان سے دفع اور دور کئے جاتے ہیں ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسے اعتراض در حقیقت اس وقت پیدا ہوتے ہیں کہ جب روحانی سلسلہ کی یادداشت سے خیال ذہول کر جاتا ہے یا اس سلسلہ کے وجود پر یقین نہیں ہوتا اور نہ جس شخص کی دونوں سلسلوں پر نظر ہے وہ بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اجرام علوی اور اجسام سفلی اور تمام کا ئنات الجو میں جو کچھ تغیر اور تحول اور کوئی امر مستحدث ظہور میں آتا ہے اس کے حدوث کی در حقیقت دو علتیں یعنی موجب ہیں۔ اوّل ۔ پہلے تو یہی سلسله علل نظام جسمانی جس سے ظاہری فلسفی اور طبعی بحث اور سروکار رکھتا ہے اور جس کی نسبت ظاہر بین حکماء کی نظر یہ خیال رکھتی ہے کہ وہ جسمانی علل اور معلولات اور موثرات اور متاثرات سے منضبط اور ترتیب یافتہ ہے۔ دوم ۔ دوسرے وہ سلسلہ جوان ظاہر بین حکماء کی نظر قاصر سے مخفی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے ملائک کا سلسلہ ہے جو اندر ہی اندر اس ظاہری سلسلہ کو مدد دیتا ہے اور اس ظاہری کا روبار کو انجام تک پہنچا دیتا ہے اور بالغ نظر لوگ بخوبی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بغیر تائید اس سلسلہ کے جو روحانی ہے ظاہری سلسلہ کا کام ہرگز چل ہی نہیں سکتا۔ اگر چہ ایک ظاہر بین فلاسفر اسباب کو موجود پا کر خیال کرتا ہے کہ فلاں نتیجہ ان اسباب کے لیے ضروری ہے مگر ایسے لوگوں کو ہمیشہ شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ جبکہ باوجود اجتماع اسباب کے نتیجہ برعکس نکلتا ہے یا وہ اسباب اپنے اختیار اور تدبیر سے باہر ہو جاتے ہیں مثلاً ایک طبیب نہایت احتیاط سے ایک بیمار بادشاہ کا علاج کرتا ہے یا مثلاً ایک گروہ طبیبوں کا ایسے مریض کے لیے دن رات تشخیص مرض اور تجویز دوا اور تدبیر غذا میں ایسا مصروف ہوتا ہے کہ اپنے دماغ کی تمام عقل اس پر خرچ کر دیتا ہے مگر جب کہ اس بادشاہ کی موت مقدر ہوتی ہے تو وہ تمام تجویزیں خطا جاتی ہیں اور چند روز طبیبوں اور موت کی لڑائی ہو کر آخرموت فتح پاتی ہے اس طور کے ہمیشہ نمونے ظاہر ہوتے رہتے ہیں مگر افسوس کہ لوگ ان کو غور کی نظر سے نہیں دیکھتے بہر حال یہ ثابت ہے