تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 83
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة الجن اب اس عاجز پر خداوند کریم نے جو کچھ کھولا اور ظاہر کیا وہ یہ ہے کہ اگر ہیئت دانوں اور طبعی والوں کے قواعد کسی قدر شہب ثاقبہ اور دمدار ستاروں کی نسبت قبول بھی کئے جائیں تب بھی جو کچھ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ وعزاسمہ نے ان کا ئنات الحق کی روحانی اغراض کی نسبت بیان فرمایا ہے اُس میں اور ان ناقص العقل حکماء کے بیان میں کوئی مزاحمت اور جھگڑا نہیں کیونکہ ان لوگوں نے تو اپنا منصب صرف اس قدر قرار دیا ہے کہ علل مادیہ اور اسباب عادیہ ان چیزوں کے دریافت کر کے نظام ظاہری کا ایک با قاعدہ سلسلہ مقرر کر دیا جائے۔لیکن قرآن کریم میں روحانی نظام کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک فعل اُس کے دوسرے فعل کا مزاحم نہیں ہو سکتا پس کیا یہ تعجب کی جگہ ہو سکتی ہے کہ جسمانی اور روحانی نظام خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں بالخصوص جس حالت میں ہمیشہ ربانی مصلح دنیا میں آتے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے ارادوں کی حرکت شروع رہتی ہے اور کوئی صدی ایسی نہیں آتی کہ جو دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں اِن اُمور میں سے کسی امر کا ظہور نہ ہو تو اس بات کے ماننے کے لئے ذرہ بھی استبعاد باقی نہیں رہتا کہ کثرت شہب وغیرہ روحانی طور پر ضرور خدا تعالیٰ کے اس روحانی انتظام کے تجدد اور حدوث پر دلالت کرتے ہیں جو الہی دین کی تقویت کے لیے ابتداء سے چلا آتا ہے خاص کر جب اس بات کو ذہن میں خوب یا درکھا جائے کہ کثرت سقوط شہب وغیرہ صرف اس امر سے براہ راست مخصوص نہیں کہ کوئی نبی یا وارث نبی اصلاح دین کے لئے پیدا ہو بلکہ اس کے ضمن میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اس نبی یا وارث اور قائم مقام نبی کے ارباصات پر بھی کثرت شہب ہوتی ہے بلکہ اس کی نمایاں فتوحات پر بھی کثرت سقوط شہب ہوتی ہے کیونکہ اس وقت رحمان کا لشکر شیطان کے لشکر پر کامل فتح پالیتا ہے۔پس جب ایسے بڑے بڑے امور پیدا ہونے لگتے ہیں کہ اس نبی یا وارث نبی کے لیے بطور ا رہاص ہیں یا اس کی کارروائیوں کے اول درجہ پر محمد اور معاون ہیں یا اس کی فتح یابی کے آثار ہیں تو ان کے قرب زمانہ میں بھی کثرت سقوط شہب وغیرہ حوادث وقوع میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں ہر یک نبی کو بھی یہ بات صفائی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ در حقیقت یہ کثرت سقوط شہب روحانی سلسلہ کی متفرق خدمات کے لئے اور ان کے اول یا آخر یا درمیان میں آتی ہے اور وہ سلسلہ ہمیشہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔مثلاً حال کے یورپ کے ہئیت دان جو ۲۷ رنومبر ۱۸۸۵ء کے شہب یا انیسویں صدی کے دوسرے واقعات شہب کا ذکر کرتے ہیں اور ان پر ایساز ور دیتے ہیں کہ گویا ان کے پاس سب سے بڑھ کر یہی نظیریں ہیں وہ ذرہ غور سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدی کے اواخر میں جو