تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 82
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة الجن حضرت مسیح کی گرفتاری کے بعد ظہور میں آئے اور پھر ایک دمدار ستارہ کی صورت میں ہو گئے۔اگر چہ اب ہم پوری صحت کے ساتھ اُس کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کر سکتے مگر قیاسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حادثہ کی ابتدائجون کے مہینہ سے ہوگی کیونکہ گو ہم اس پرانے واقعہ کی تشخیص میں عیسائیوں کے مختلف فیہ بیانات سے کوئی عمدہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے مگر استنباط کے طور پر یہ پتہ ملتا ہے کہ حضرت مسیح جب یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوئے تب شدت گرمی کا مہینہ تھا کیونکہ گرفتاری کی حالت میں اُن کا سخت پیاسا ہونا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ موسم کا یہی تقاضا تھا کہ گرمی اور پیاس محسوس ہو۔سو وہ مہینہ جون ہے کیونکہ اُس وقت ایک سخت آندھی بھی آئی تھی جس کے ساتھ اندھیرا ہو گیا تھا اور جون کے مہینہ میں اکثر آندھیاں بھی آتی ہیں۔اب اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ در حقیقت کا ئنات الحجز بالخصوص شہب ثاقبہ اور دمدار ستاروں کے بارے میں کوئی قطعی اور یقینی طریق بصیرت ہیئت دانوں اور طبعی والوں کو اب تک ہاتھ میں نہیں آیا جب کبھی اُن کے قواعد تراشیدہ کے برخلاف کوئی امر ظہور میں آتا ہے تو ایک سخت پریشانی اور حیرت اُن کو لاحق ہو جاتی ہے اور گھبراہٹ کا ایک غل غپاڑہ اُن میں اٹھتا ہے۔یورپ کے ہیئت دان اور سائنس اور نجوم میں بڑی بڑی لاٹھیں مارنے والے ہمیشہ کا ئنات الجو اور اُن کے نتائج کے بارہ میں پیشگوئیاں ایک بڑے دعوے کے ساتھ شائع کیا کرتے ہیں اور کبھی لوگوں کو قحط سالیوں سے ڈراتے اور طوفانوں اور آندھیوں کی پیش خبری سے دھڑ کے میں ڈالتے اور کبھی بروقت کی بارشوں اور ارزانی کی امیدیں دیتے ہیں مگر قدرت حق ہے کہ اکثر وہ ان خبروں میں جھوٹے نکلتے ہیں مگر بائیں ہمہ پھر بھی لوگوں کے دماغوں کو ناحق پریشان کرتے رہتے ہیں یوں تو وہ اپنے فکروں کو دور تک پہنچا کر خدائے عزوجل کی خدائی میں ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں مگر حکمت از لی ہمیشہ اُن کو شرمندہ کرتی ہے۔اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی فاش خطا ہمیشہ ثابت ہوتی رہتی ہے اُن کی نسبت کیوں کر گمان کر سکتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے نظام اور سائنس کے بارے میں اب تک دریافت کیا ہے وہ سب یقینی ہے ہمیں تو اُن کے اکثر معلومات کا فنی مرتبہ ماننے میں بھی شرم آتی ہے کیونکہ اب تک اُن کے خیالات میں بے اصل اور بے ثبوت باتوں کا ذخیرہ بڑھا ہوا ہے۔اس وقت امام رازی رحمتہ اللہ کا یہ قول نہایت پیارا معلوم ہوتا ہے کہ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَكْتَالَ مَمْلُكَةَ الْبَارِى مِكْيَالِ الْعَقْلِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا۔یعنی جو شخص خدا تعالی کے ملک کو اپنی عقل کے پیمانہ سے ناپنا چاہے تو وہ راستی اور صداقت اور سلامت روی سے دور جا پڑا۔