تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 74

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۴ سورة نوح مِمَّا خَطِيَّتِهِمْ أَغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ انصاران جو لوگ اپنی کثرت نافرمانی کی وجہ سے ایسے فنافی الشیطان ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ شیطان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بکلی تعلقات اپنے مولی حقیقی سے توڑ دیتے ہیں اُن کے لئے اُن کی موت کے بعد صرف دوزخ کی طرف کھڑ کی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قومی کے ساتھ خاص دوزخ میں ڈال دیئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے مِنَا خَطِيتِهِمْ أَغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا سورہ نوح مگر پھر بھی وہ لوگ قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتم طور پر عقوبات جہنم کا مزہ نہیں (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۳، ۲۸۴) چکھتے۔يَعْبُتُ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَّ أَهْلَ جَهَنَّمَ | قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل جہنم جہنم میں يَدْخُلُونَهَا بَعْدَ الْمَوْتِ مِنْ غَيْرِ مُكْثٍ، موت کے بعد بغیر کسی انتظار کے داخل ہوں گے جیسا کہ كَمَا لا يخفى عَلَى الَّذِينَ يَتَدَبَّرُونَ فِي آيَةٍ آيت فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ پر تدبر کرنے والوں پر مخفی فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ، وَكَمَا قَالَ اللهُ نہیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مِمَّا خَطِيتِهِم تعالى مِمَّا خَطِيتِهِمْ أَغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۵۳) أغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا - ( ترجمه از مرتب ) وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارات جب ارادہ الہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے۔وہ دعا کرتا ہے۔پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔دیکھو نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایذائیں سہتے رہے۔پھر ارادہ الہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا رَبْ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا۔جب تک خدا کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے۔پھر جب درد کی حالت پیدا ہوئی تو قتال کے ذریعے مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔خود ہماری نسبت دیکھو جب یہ شجھ چپک جاری ہوا تو اس