تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 65
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الزمر وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّبُوتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ أُخْرَى فَإِذَاهُمْ قِيَامُ تَنْظُرُونَ نفخ حقیقت میں دو قسم پر ہے ایک نفخ اضلال اور ایک نفخ ہدایت جیسا کہ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے وَنُفِخَ فِي الطُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَام يَنْظُرُونَ۔یہ آیتیں ذوالوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس عالم سے بھی۔جیسا کہ آیت اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ( الحديد : ۱۸) اور جیسا کہ آیت فسالت أودية بقدرِهَا (الرعد: ۱۸) اور اس عالم کے لحاظ سے ان آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ آخری دنوں میں دوزمانے آئیں گے۔ایک ضلالت کا زمانہ اور اس زمانہ میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنی شقی اور سعید پر غفلت سی طاری ہوگی مگر جس کو خدا محفوظ رکھے اور پھر دوسرا زمانہ ہدایت کا آئے گا۔پس ناگاہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھتے ہوں گے۔یعنی غفلت دُور ہو جائے گی اور دلوں میں معرفت داخل ہو جائے گی اور شقی اپنی شقاوت پر متنبہ ہو جائیں گے گوایمان نہ لاویں۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۱) وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامُ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَلِدِينَ۔سَلامُ عَلَيْكُم طبتم تم پر سلامتی ہے تم پاک نفس ہو۔تم پر سلام تم پاک ہو۔(تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۷ ) (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۷ )