تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 64

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۴ b۔سورة الزمر وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَةٌ ۖ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوَى لِلْمُتَكَبِرِينَ وَيُنَجِّي اللهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءِ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔وَلَاهُمْ قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ جنہوں نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولا ان کے منہ کالے ہیں۔( اور کیوں کالے نہ ہوں ) کیا یہ لائق نہیں کہ متکبر لوگ جہنم میں ہی گرائے جائیں اور اللہ تعالیٰ متقیوں کو نجات دے گا اس طور سے کہ ان کو ان کی مرادات تک پہنچائے گا ان کو برائی نہیں لگے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اب یہ آیت اُس پہلی آیت کی گویا تفسیر کرتی ہیں کیونکہ اس میں نجات دینے کی حقیقت یہ کھولی ہے کہ وہ اپنی مرادات کو پہنچ جائیں گے اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ وہ اس دن برائی کی جس سے بالکل محفوظ ہوں گے ایک ذرا تکلیف ان کو چھوٹے گی بھی نہیں اور غم ان کے نزدیک نہیں آئے گا۔اور اس آیت وَ إِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا ( مریم) (۷۲) کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ در اصل مخاطب وہی لوگ ہوں کہ جو عذاب دوزخ میں گرفتار ہوں۔پھر بعض ان میں سے کہ کچھ حصہ تقویٰ کا رکھتے ہیں اس عذاب سے نجات پاویں اور دوسرے دوزخ میں ہی گرے رہیں اور یہ معنے اس حالت میں ہوں گے کہ جب اس خطاب سے ابرار اور اخیار اور تمام مقدس اور مقرب لوگ باہر رکھے جائیں لیکن حق بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی کلام کا منشاء وہی معنی معلوم ہوتے ہیں جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجَعُ وَالْمَابُ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۶، ۱۵۷) وَ مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّمَوتُ مطويت بِيَمِينِهِ سُبْحْنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔وَالسَّمَوتُ مَطْوِيتُ بِيَمِينہ یعنی دنیا کے فنا کے کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دہنے ہاتھ سے لپیٹ لے گا اب دیکھو کہ اگر شقُ السَّمَاوَاتِ سے در حقیقت پھاڑ نا مراد لیا جائے تو مطويات کا لفظ اس سے مغائر اور منافی پڑے گا کیونکہ اس میں پھاڑنے کا کہیں ذکر نہیں۔صرف پیٹنے کا ذکر ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۲ حاشیه در حاشیه )