تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 63

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۳ سورة الزمر اے وہ لو گو جنہوں نے اسراف کیا یعنی گناہ کیا تم خدا کی رحمت سے نو امید مت ہو وہ تمہارے سارے گناہ بخش دے گا یعنی وہ اس بات سے مجبور اور عاجز نہیں کہ گنہگار کو بغیر سزا دینے کے چھوڑ دے کیونکہ وہ اس کا مالک ہے اور مالک کو ہر ایک اختیار ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶) جب انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسا محو ہوتا ہے جو کچھ بھی نہیں رہتا تب اسی فنا کی حالت میں ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ اس حالت میں اُن کا وجود درمیان نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قل يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا یعنی ان لوگوں کو کہہ کہ اے میرے بند و خدا کی رحمت سے نومیدمت ہو خدا تمام گناہ بخش دے گا۔اب دیکھو اس جگہ ہوخدا دیکھو يَا عِبَادَ اللہ کی جگہ يَا عِبَادِی کہہ دیا گیا حالانکہ لوگ خدا کے بندے ہیں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے۔مگر یہ استعارہ کے رنگ میں بولا گیا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۶) اگر۔۔۔۔صرف توحید کافی ہے تو پھر مفصلہ ذیل آیت سے یہ ثابت ہوگا کہ شرک وغیرہ سب گناہ بغیر تو به کے بخشے جائیں گے اور وہ آیت یہ ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا حالانکہ ایسا ہر گز نہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۵ حاشیه ) انسان تو در اصل بنده یعنی غلام ہے۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے۔اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ۔قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى الْفُهم اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کر وسب حکموں پر کار بندر ہو۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۹) ایسے الفاظ جو انبیاء کے حق میں خدا تعالیٰ نے بولے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ اور سب سے بڑا عزت کا خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما یا قل بعبادی جس کے معنے ہیں کہ اے میرے بندو۔اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے بندے تھے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے۔اس فقرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ کا اطلاق استعارہ کے رنگ میں کہاں تک وسیع ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۷ء صفحه ۳)