تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page ix of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page ix

صفحه ۳۹ لدا لد ۔ ۴۳ ۴۳ ママ ۴۷ لد ٧ ۵۰ ۵۱ ۵۲ viii مضمون کا فر کا رفع نہیں ہوتا لا تُفتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ اس کی طرف اشارہ کرتی ہے مُفَتَّحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ میں لَهُمْ کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے تو کیا یہ سب کے سب اسی جسم عنصری کے ساتھ جاتے ہیں فَقَعُوا لَهُ سَجِدِینَ ۔ سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں خَلَقْتُ بیدی کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلالی اور جمالی تجلی کا جامع پیدا کیا گیا ہے تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے اولیاء اللہ میں تکلفات نہیں ہوتے جبکہ اس وقت کے پیر زادوں اور مشائخوں مشائخوں کا کوئی قول اور فعل تکلف سے خالی نہیں ہے خدا کی اصولی صفات چار ہیں فرقان مجید سے خالقیت باری تعالیٰ پر دلیل قیاس استثنائی لفظ نزول کے معنے قرآن شریف سے تین اندھیروں میں انسان کی پیدائش ہوتی ہے ۔ پیٹ ۲۔ رحم ۳۔ جھلی جس کے اندر بچہ پیدا ہوتا ہے وعدہ کی پیشگوئی کسی طرح ٹل نہیں سکتی وعید کی پیشگوئی خوف ، دعا اور صدقہ خیرات سے مل سکتی ہے نمبر شمار ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ لدا لد ۔