تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 43
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ سورة ص کی طرف کھینچا جائے۔سو ہر ایک اس نور کو دیکھ کر سجدہ کرتا ہے۔اور طبعاً اس طرف آتا ہے بجز ابلیس کے جو اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۲۲) تاریکی سے دوستی رکھتا ہے۔91 قَالَ يَابْلِيسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ اَسْتَكْبَرتَ أمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ خدا نے آدم کو جمعہ کے دن عصر کے وقت بنایا کیونکہ اس کو منظور تھا کہ آدم کو جلال اور جمال کا جامع بناوے جیسا کہ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ خَلَقْتُ بیدی یعنی آدم کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ظاہر ہے کہ خدا کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہیں۔پس دونوں ہاتھ سے مراد جمالی اور جلالی تحیلی ہے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلالی اور جمالی تجلی کا جامع پیدا کیا گیا ہے۔(تحفہ گولڑ و بیه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۸۱، ۲۸۲ حاشیه ) ایک علو تو اس رنگ میں ہوتا ہے جیسے کہ آمَا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ ( الضُّحى : ۱۲) اور ایک علو شیطان کا ہوتا ہے جیسے آبی وَاسْتَكْبَر اور اس کے بارہ میں ہے آمر كُنتَ مِنَ الْعَالِینَ یہ اس سے سوال ہے کہ تیرا علق تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی ہے۔خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلیٰ کا لفظ آیا ہے اور ہمیشہ آتا ہے جیسے اِنَّكَ اَنْتَ الأعلى مگر یہ تو انکسار سے ہوتا ہے اور وہ تکبر سے ملا ہوا ہوتا ہے۔البدر جلد اوّل نمبر ۱ مورخه ۱/۳۱اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۴) قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ یا درکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے جب تک انسان اس سے دُور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضانِ الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے نہ علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے مواد ڈیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ