تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 37

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷ سورة ص یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ امر مشکل ہے کہ دُنیا کا ایک ہی مذہب ہو جاوے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ بھی اپنا ایک قانون مقرر فرما دیا ہے کہ قیامت تک دُنیا میں تفرقہ ضرور رہے گا چنانچہ قرآن شریف میں یہ امر بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے۔قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی تعلیم کامل کیا ہوگی۔اس میں سب سے بڑھ کر آیات اور برکات رکھے ہوئے ہیں جو ہر زمانہ میں تازہ اور زندہ ہیں۔پھر اگر یہ قانونِ الہی نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ دنیا کی کل قو میں اس کو قبول کر لیتیں مگر خاص زمانہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی دوسرا فرقہ موجود تھا۔جیسا نبی کامل تھا ویسی ہی کتاب کامل تھی۔لیکن ابو جہل اور ابولہب وغیرہ نے کچھ فائدہ نہ اُٹھایا اور وہ یہی کہتے رہے إِنَّ هَذَا لَشَى يُراد میاں یہ تو دوکانداری ہے۔الحکام جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷اراگست ۱۹۰۱ صفحه ۶) انسان ہمیشہ تجارب سے نتیجہ نکالتا ہے اور عقل انسانی بھی بذریعہ تجارب کے ترقی کرتی رہتی ہے مثلاً انسان جانتا ہے کہ آنب کے درخت کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور بعض درخت کے پھل کڑوے ہوتے ہیں تو اس تجر بہ کثیر سے ایک فہم حاصل ہو جاوے گا کہ آنب کے پھل ضرور شیریں ہوتے ہیں اسی طرح چونکہ تجربہ آج کل یہی ہوتا ہے کہ دُنیا میں فسق و فجور اور مکر وفریب کا سلسلہ بڑھا ہوا ہے۔اسی لئے اس کا خیال بندھ جاتا ہے کہ ہر ایک فریبی اور مکار ہی ہے۔سابقہ تجارب اُسے تعلیم دیتے ہیں کہ ایسا ہی ہونا چاہیے اسی وجہ سے حسن عقیدت کی جگہ بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے اور اسی لئے لوگ انبیاء پر بھی سوء ظن رکھتے آئے ہیں۔موسیٰ کی وفات کو دو ہزار برس گزر چکے تھے تو آنحضرت صلعم مبعوث ہوئے اور اس زمانہ میں بہت سے چھوٹے معجزے دکھانے والے اور دعویٰ کرنے والے پیدا ہوئے تھے۔لوگوں کو اُن کا تجربہ تھا اور اسی حالت میں یک لخت ایک صادق بھی آگیا آخر ان کو اس صادق کو بھی وہی کہنا پڑا جوان جھوٹے مدعیوں کے حق میں کہتے تھے یعنی إِنَّ هذا لَشَيْ يُراد کہ یہ تو دوکانداری ہے۔غرضیکہ انسان تجارب کے ذریعہ سے بھول رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے بندوں کی معرفت کا ہونا یہ خدا کا خاص فضل ہے۔وہی معرفت دے تو پتہ لگتا ہے۔دُعا بہت کرے دُعاکےسوا چارہ نہیں۔البدرجلد ۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱) مَا سَعْنَا بِهذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقُ۔یہ تو ایک بناوٹ ہے۔( برا این احمد یه چهار تصص، روحانی خزائن جلد اصلحه ۲۰۵ حاشیه در حاشیه نمبر (۳)