تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page vii
صفحہ ۱۴ ۱۵ لا ۱۹ ۲۱ ۲۱ ۲۳ ۲۴ ۲۶ vi نمبر شمار مضمون عالم آخرت میں تمثلی خلق اور پیدائش کی دلیل اعتراض کہ چھ دن میں زمین و آسمان کی پیدائش ضعف پر دلالت کرتی ہے کیونکہ معا خدا کے ارادہ کے ساتھ ہی سب کچھ ہو جانا لازم ہے جو چیز عمل اور اسباب سے پیدا ہوتی ہے وہ خلق ہے اور جو محض کن سے ہو وہ امر ہے إِلا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاتْبَعَةُ شِهَابٌ ثَاقِب - کے معنے قرآن کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا کو اپنی محبت کی رو سے بھی واحد لاشریک ٹھہراؤ مومن اپنی موت کے بعد بلا توقف جنت میں داخل کئے جائیں گے کی دلیل خدا کی کتاب میں نیک و بد کی جزا کے لیے دو مقام پائے جاتے ہیں ایک عالم برزخ اور اس کے بعد ایک اور اعلی تجلی کا دن أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الأولی میں ہمزہ استفہام تقریری کے لئے ہے اور فاء ایک محذوف پر عطف ہے اور الّا استثناء مفرغ ہے حضرت ابو ہریرة کی آیت فَمَا نَحْنُ بِمَيْتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الأولى س رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت استدلال قرآن نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو عمدہ میووں سے مشابہت دی اور بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں ز قوم رکھا ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹