تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 29
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة الصفت ہمیشہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پر جاری و ساری تھا تو پھر توقف نزول کے کیا معنے ہیں۔اما الجواب پس واضح ہو کہ ایسا خیال کرنا کہ روح القدس کبھی انبیاء کو خالی چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتا ہے صرف ایک دھوکہ ہے کہ جو بوجہ غلط فہمی نزول اور صعود کے معنوں کے دلوں میں متمکن ہو گیا ہے۔پوشیدہ نہ رہے کہ نزول کے یہ معنے ہر گز نہیں ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے اپنا مقام اور مقتر چھوڑ کر زمین پر نازل ہو جاتا ہے ایسے معنے تو صریح نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے مخالف ہیں چنانچہ فتح البیان میں ابن جریر سے بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ حدیث مروی ہے قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي السَّمَاءِ مَوْضَعُ قَدَمٍ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَ سَاجِدٌ أوْ قَائِمٌ وَذَالِك قَوْلُ الْمَلائِكَةِ وَ ما مِنَّا إِلَّا له مَقام مَّعْلُوم یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان پر ایک قدم کی بھی ایسی جگہ خالی نہیں جس میں کوئی فرشتہ ساجد یا قائم نہ ہو اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک شخص ایک مقام معلوم یعنی ثابت شدہ رکھتا ہے جس سے ایک قدم او پر یا نیچے نہیں آ سکتا۔اب دیکھو اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ فرشتے اپنے مقامات کو نہیں چھوڑتے اور بھی ایسا اتفاق نہیں ہوتا کہ ایک قدم کی جگہ بھی آسمان پر خالی نظر آوے۔۔۔یہ بات نہایت احتیاط سے اپنے حافظہ میں رکھ لینی چاہیئے کہ مقربوں کا روح القدس کی تاثیر سے علیحدہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ اُن کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیوں کر علیحدہ ہو سکتے ہیں۔اور جس علیحدگی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اُس سے مراد صرف ایک قسم کی تعالی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصالح الہی اس قسم کی تجلی میں کبھی دیر ہو گئی ہے اور اصطلاح قرآن کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی تخلی ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۸ تا ۹۱) حال کے اکثر ملا۔۔۔اس بات کے وہ ہرگز قائل نہیں ہیں کہ ہر یک انسان کو دو قرین دیے گئے ہیں ایک داعی الی الخیر جو روح القدس ہے اور ایک داعی الی الشتر جو شیطان ہے بلکہ اُن کا تو یہ قول ہے کہ صرف ایک ہی قرین دیا گیا ہے جو داعی الی الشر ہے اور انسان کی ایمانی بیخ کنی کے لئے ہر وقت اُس کے ساتھ رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کو یہ بات بہت پیاری معلوم ہوئی کہ انسان کا شیطان کو دن رات کا مصاحب بنا کر اور انسان کے خون اور رگ وریشہ میں شیطان کو دخل بخش کر بہت جلد انسان کو تباہی میں ڈال دیوے اور جبرائیل جس کا دوسرا نام روح القدس بھی ہے ہر گز عام انسانوں کے لئے بلکہ اولیاء کے لئے بھی داعی الی الخیر مقرر نہیں کیا۔وہ