تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 16
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 14 سورة يس ہوئی تھی ایک ہی دم میں اس کو چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ بات کھول کر یاد دلانا ضروری ہے کہ ارادہ کاملہ بھی قدرت کاملہ کی طرح دونوں شقوں سرعت اور بطور کو چاہتا ہے مثلاً ہم جیسا یہ ارادہ کر سکتے ہیں کہ ابھی یہ بات ہو جائے ایسا ہی یہ بھی ارادہ کر سکتے ہیں کہ دس برس کے بعد ہو۔مثلا ریل اور تار اور صد با کلیں جواب نکل رہی ہیں بیشک ابتداء سے خدا تعالیٰ کے ارادہ اور علم میں تھیں لیکن ہرا ہا برس تک ان کا ظہور نہ ہوا اور وہ ارادہ تو ابتداء ہی سے تھا مگر مخفی چلا آیا اور اپنے وقت پر ظاہر ہوا اور جب وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے ایک قوم کو ان فکروں اور سوچوں میں لگا دیا اور ان کی مدد کی۔یہاں تک کہ وہ اپنی تدبیروں میں کامیاب ہو گئے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۲۰ تا ۱۷۱ حاشیه در حاشیه ) حکم اس کا اس سے زیادہ نہیں کہ جب کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہو پس ساتھ ہی وہ ہو جاتی ہے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۱۰۱) اس کے حکم کی یہ شان ہے کہ جب کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہی کہتا ہے کہ ہو پس وہ چیز اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۷) پیدا ہو جاتی ہے۔جب ایک کام کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو فی الفور وہ کام ہو جاتا ہے۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸) خدا کا حکم اس طرح پر ہوتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوتو وہ ہوجاتی ہے۔اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ فی الفور بلا توقف ہو جاتی ہے کیونکہ آیت میں فی الفور کا لفظ نہیں ہے بلکہ آیت اطلاق پر دلالت کرتی ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ چاہے تو خدا تعالیٰ اس امر کو جلدی سے کر دے اور چاہے تو اس میں دیر ڈال دے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں بھی یہی مشہود محسوس ہے کہ بعض امور جلدی سے ہو جاتے ہیں اور بعض دیر سے ظہور میں آتے ہیں۔(چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۲) جب وہ ایک بات کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو پس وہ بات ہو جاتی ہے۔( تذكرة الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶) اور جب خدا کسی چیز کو چاہتا ہے کہ ہو جائے تو اسے کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۰۸) انسان ایسی ایسی مصیبتوں اور مشکلات میں گرفتار ہوتا ہے کہ ٹکریں مارتا پھرتا ہے اور ایسا سرگردان ہوتا ہے کہ کچھ پتہ نہیں لگتا۔ہزاروں آرزوئیں اور تمنائیں ایسی ہوتی ہیں کہ پوری ہونے میں نہیں آتیں۔کیا