تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 433
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۳ سورة الجمعة اِنَّ اللهَ كَانَ أَوْحَى إِلَى وَقَالَ كُلُّ بَرَكَةٍ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی اور فرمایا حال مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ ن عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ يَعْنِي أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مَنْ عَـ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَكَ مِنْ تَأْثِيرِ رُوحَانِيَّتِهِ تمہیں اپنی روحانیت کی تاثیر کے ذریعہ سکھایا اور اپنی وَآفَاضَ انا قلبك بفيض رخميه رحمت کا فیض تیرے دل کے برتن میں ڈال دیا تا تجھے قَلْبِكَ بِفَيْضِ رَحْمَتِهِ لِيُدخِلَكَ فِي صَحَابَتِهِ وَلِيُشْرِكَكَ فِي بَركَتِهِ اپنے صحابہ میں داخل کریں اور تجھے اپنی برکت میں وَلِيُتِمَّ نَبا اللهِ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ بِفَضْلِهِ شریک کریں اور تا اللہ تعالیٰ کی خبر وَآخَرِينَ مِنْهُمْ اس کے فضل اور اس کے احسان سے پوری ہو۔وَمِنتِه ( ترجمه از مرتب) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۱۰ حاشیه ) منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو آنے والا مسیح جس کا اس اُمت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی اُمت میں سے ایک شخص ہوگا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور آمكُم مِنْكُم لکھا ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہوگا۔چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسی کی نسبت ہے اور اسی کی تعریف میں اس حدیث میں حکم اور عدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اسی کے حق میں ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ منکم کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے۔لیکن ظاہر ہے کہ اُن میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے منکم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کہا گیا ہے یعنی یہ کہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کریم کی رُوحانیت سے تربیت یافتہ ہے اور اسی معنے کے رُو سے صحابہ میں داخل ہے اور اس آیت کی تشریح میں یہ حدیث ہے لوگان الإيمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُريَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِن فَارِسَ اور چونکہ اس فارسی شخص کی طرف وہ صفت منسوب کی گئی ہے جو مسیح موعود اور مہدی سے مخصوص ہے یعنی زمین جو ایمان اور توحید سے خالی ہو کر ظلم سے بھر گئی ہے پھر اس کو عدل سے پر کرنا۔لہذا یہی شخص مہدی اور مسیح موعود ہے اور وہ میں ہوں اور جس طرح کسی دوسرے مدعی مہدویت کے وقت میں کسوف خسوف رمضان میں آسمان پر نہیں ہوا۔ایسا ہی تیرہ سو برس کے عرصہ میں