تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 432

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۲ سورة الجمعة السَّادِس لِيُشَابِة آدَمَ في يَوْمِ خَلْقَتِهِ، پیدائش کے دن میں آدم کے مشابہہ ہو جائے اور وہ حقیقی وَهُوَ الْجُمُعَةُ حَقِيقَةً لِأَنَّ اللهَ قَدر أَنَّهُ يَجْمَعُ طور پر جمعہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا تھا کہ وہ اپنی الْفِرَقَ الْمُتَفَرْقَةَ في هَذَا الْيَوْمِ جمعاً رحمت کاملہ کی وجہ سے اس دن تمام متفرق فرقوں کو جمع برخمةٍ كاملةٍ، وَيُنْفَعُ في الصُّوْرِ يَعْنِی کرے گا اور بنگل میں پھونک لگائی جائے گی یعنی اللہ تعالی يَتَجَلَّى اللهُ لِجَمْعِهِمْ فَإِذَا هُمْ مُجْتَمِعُونَ عَلَی ان کے جمع کرنے کے لئے تجلی فرمائے گا۔پس سوائے مِلَّةٍ وَاحِدَةٍ إِلَّا الَّذِينَ شَقُوا بِمَشِيَّةٍ ان لوگوں کے جو اس کی مشیت کے ماتحت شقی ہوں گے وَحَبَسَهُمْ سِجْنُ شِقْوَة وَإِلَيْهِ أَشَارَ سارے لوگ ایک ملت پر جمع ہو جائیں گے اور اسی کی سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ فِي سُورَةٍ طرف اللہ تعالیٰ کے قول وَ آخَرِينَ مِنْهُمُ میں اشارہ الْجُمُعَةِ، إِيْمَاء إِلى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْحَقِيقِيَّةِ ہے جو سورۃ جمعہ میں وارد ہوا ہے تا جمعہ حقیقی کے دن کی وَأَرَادَ مِنْ هَذَا الْقَوْلِ أَنَّ الْمَسِيحَ طرف اشارہ ہو۔اور اللہ تعالیٰ نے اس قول سے ارادہ کیا الْمَوْعُوْدِ الَّذِى يَأْتِي مِن بَعْدِ عَالم ہے کہ مسیح موعود جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم الْأَنْبِيَاءِ هُوَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد آئے گا وہ مشابہت کاملہ کی بنا پر محمد صلی اللہ مِنْ حَيْثُ الْمُضَاهَاةِ التَّامَّةِ، وَ رُفَقَاءُہ علیہ وسلم ہی ہوگا اور اس کے ساتھی صحابہؓ کے مثیل ہوں كَالصَّحَابَةِ، وَأَنَّهُ هُوَ عِيسَى الْمَوْعُودِ لھذہ گے اور وہ اس امت کے لئے عیسی ہوگا جیسا کہ سورۃ الْأُمَّةِ، وَعْدًا من الله ذى الْعِزَّةِ فِي سُورَةٍ تحريم، سورۃ نور اور سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالی نے وعدہ التَّحْرِيمِ وَ التَّوْرِ وَالْفَاتِحَةِ۔قَوْلَ الْحَق فرمایا ہے۔یہ قول حق ہے جس میں لوگ شک کر رہے الَّذِي فِيْهِ يَمْتَرُونَ مَا كَانَ لِنَبِي أَن يَأْتِي ہیں۔حضرت خاتم الانبیاء کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا بَعْدَ خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا الَّذِى جُعِل سوائے اس کے جو آپ کی امت میں نبی بنایا جائے اور وَارِثَهُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَأُعْلِى مِنَ اسْمِهِ وَهُويَّتِهِ، جسے آپ کا نام اور آپ کی ہو یت عطا کی جائے اور اس وَيَعْلَمُهُ الْعَالِمُونَ فَذَالِك مَسيعُكُمُ بات کو عالم لوگ جانتے ہیں اور یہ وہ صحیح ہے جس کا تم الَّذِي تَنظُرُونَ إِلَيْهِ وَلَا تَعْرِفُونَهُ، وَإِلَى انتظار کر رہے ہولیکن اس کی طرف دیکھتے نہیں۔تمہاری آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی ہیں۔السَّمَاءِ أَعْيُنَكُمُ تَرْفَعُوْنَ۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۱۱٬۳۱۰) (ترجمه از مرتب)