تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 429
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۹ سورة الجمعة آخَرِينَ وَأَنزَلَ اللهُ عَلَى فَيْضَ هذا پر اُس رسول کریم کا فیض نازل فرما یا اور اس کو کامل بنایا الرَّسُوْلِ فَأَتَمهُ وَأَكْمَلَهُ، وَجَذَبَ إِلَى نُطقة اور اس نبی کریم کے لطف اور مجود کو میری طرف کھینچا وَجُوْدَهُ، حَتَّى صَارٌ وُجُوْدِی وُجُودَهُ فَمَن یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔پس وہ جو دَخَلَ فِي جَمَاعَتِي دَخَلَ فِي صَحَابَةِ سَيِّدِنى میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ۔وَهَذَا هُوَ مَعْنَى وَاخَرِيْنَ المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی اخرين مِنْهُمْ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى الْمُتَدَبِرِينَ۔وَمَن مِنْهُمْ کے لفظ کے بھی ہیں جیسا کہ سوچنے والوں پر فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفى فَمَا عَرَفَنِي وَمَا پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا رأى۔ہے اُس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۵۷ تا۲۵۹) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) جَاءَ فِي الْآثَارِ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بُعِثَ آثار میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم في الْأَلْفِ السَّادِسِ مَعَ أَنَّ بَعْقَهُ كَانَ فی چھٹے ہزار میں مبعوث ہوئے حالانکہ آنجناب کی بعثت الْأَلْفِ الْخَامِس بالقطع وَالْيَقِينِ۔فَلا قطعاً اور یقیناً پانچویں ہزار میں تھی پس شک نہیں کہ شَكَ أَنَّ هَذِهِ إِشَارَةٌ إِلى وَقْتِ التَّجَلِی یہ اشارہ ہے بجلی تام کے وقت کی طرف اور استیفاء الثَّامِ وَ اسْتِيْفَاء الْمَرَامِ وَ كَمَالِ ظُهُورٍ مرام کی طرف اور روحانیت کے ظہور کے کمال کی الرُّوحَانِيَّةِ وَ أَيَّامِ تَمَوُّحِ الْفُيُوضِ طرف اور جہان میں محمدی فیوض کے موج مارنے کے الْمُحَمَّدِيَّةِ فِي الْعَالَمِينَ، وَهُوَ آخِرُ الْأَلْفِ دنوں کی طرف۔اور یہ چھٹے ہزار کا آخر ہے جو زمانہ السَّادِس الذي هُوَ الزَّمَانُ الْمَعْهُودُ لِنُزُولِ کے مسیح موعود کے اترنے کے لئے مقرر ہے۔جیسا کہ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ كَمَا يُفْهَمُ مِن كُتُب انبیاء کی کتابوں سے سمجھا جاتا ہے۔اور یہ زمانہ یقیناً النَّبِيِّينَ وَإِنَّ هَذَا الزَّمَانَ هُوَ مَوْطاً خدا تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کے قدم رکھنے کی جگہ قَدَمِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ ہے جیسا کہ آیت وَاخَرِينَ مِنْهُمْ اور پاک تحریروں كَمَا يُفْهَمُ مِنْ آيَةٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ وَآيَاتٍ کی دوسری آیتوں سے مفہوم ہوتا ہے۔پس اگر تو عقلمند أُخْرَى مِنَ الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ، فَفَكِّرُ إِن ہے تو فکر کر۔اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم كُنتَ مِنَ الْعَاقِلِينَ وَاعْلَمُ أَنَّ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود