تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 428
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۸ سورة الجمعة معلوم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایسے ہی وقت میں آئے تھے کہ جب اسرائیلی قوموں میں بڑا تفرقہ پیدا ہو گیا تھا اور ایک دوسرے کے مکفر اور مکذب ہو گئے تھے۔اسی طرح یہ عاجز بھی ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اندرونی اختلافات انتہا تک پہنچ گئے اور ایک فرقہ دوسرے کو کافر بنانے لگا۔اس تفرقہ کے وقت میں امت محمدیہ کو ایک حکم کی ضرورت تھی سوخدا نے مجھے حکم کر کے بھیجا ہے (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۵۵ تا ۲۵۷ حاشیه ) پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ کو علم قرآن دیا گیا ہے ایسا علم جو باطل کو نیست کرے گا۔اور اسی پیشگوئی میں فرمایا کہ دو انسان ہیں جن کو بہت ہی برکت دی گئی۔ایک وہ معلم جس کا نام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ایک یہ تعلم یعنی اس کتاب کا لکھنے والا۔اور یہ اس آیت کی طرف بھی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی اس نبی کے اور شاگرد بھی ہیں جو ہنوز ظاہر نہیں ہوئے اور آخری زمانہ میں ان کا ظہور ہو گا۔یہ آیت اسی عاجز کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی الہام میں ذکر ہو چکا ہے یہ عاجز روحانی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں میں سے ہے۔اور یہ پیشگوئی جو قرآنی تعلیم کی طرف اشارہ فرماتی ہے اس کی تصدیق کے لئے کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی تھی جس کی طرف کسی مخالف نے رخ نہیں کیا۔اور مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میں نے قرآنی تفسیر کے لئے بار بار ان کو بلایا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔سو فہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جل شانہ کا ایک نشان ہے۔میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ میں اس بیان میں سچا ہوں۔(سراج منیر ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۴۱،۴۰) وَإِنَّ ادَمَ آخِرِ الزَّمَانِ حَقِيقَةً هُوَ اور آخر زمانہ کا آدم در حقیقت ہمارے نبی کریم ہیں نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنِّسْبَةُ صلى اللہ علیہ وسلم اور میری نسبت اُس کی جناب کے ساتھ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَنِسْبَةِ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ اُستاد اور شاگرد کی نسبت ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ و وَإِلَيْهِ أَشَارَ سُبْحَانَهُ في قَوْلِهِ وَ أَخَرِيْنَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم اسی بات کی طرف اشارہ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ فَفَكِّرُ في قَوْلِهِ کرتا ہے۔پس آخرین کے لفظ میں فکر کرو۔اور خدا نے مجھے