تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 420
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الجمعة کے حملوں سے خطر ناک حالت میں تھی۔اور تعلیم توریت اور اُس کی پیشگوئیوں اور منجزات پر سخت حملہ کیا جاتا تھا اور یونانی خیالات کے موافق خدا تعالیٰ کے وجود کو بھی ایک ایسا وجود سمجھا گیا تھا کہ جو صرف مخلوق میں مخلوط ہے اور مذ بر بالا رادہ نہیں۔اور سلسلہ نبوت سے ٹھٹھا کیا جاتا تھا۔لہذا حضرت عیسی کے مبعوث کرنے سے جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ موسوی نبوت کی صحت اور اس سلسلہ کی حقانیت پر تازہ شہادت قائم کرے اور نئی تائیدات اور آسمانی گواہوں سے موسوی عمارت کی دوبارہ مرمت کر دیوے۔اسی طرح جو اس اُمت کے لئے مسیح موعود بھی چودھویں صدی کے سر پر بھیجا گیا اُس کی بعثت سے بھی یہی مطلب تھا کہ جو یورپ کے فلسفہ اور یورپ کی دجالیت نے اسلام پر طرح طرح کے حملے کئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور پیشنگوئیوں اور معجزات سے انکار اور تعلیم قرآنی پر اعتراض اور برکات اور انوار اسلام کو سخت استہزا کی نظر سے دیکھا ہے ان تمام حملوں کو نیست و نابود کرے اور نبوت محمدیہ علی صاحبها الف الف سلام کو تازہ تصدیق اور تائید سے حق کے طالبوں پر چمکا دے اور یہی شہر ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۲ میں آج سے سترہ برس پہلے ایک الہام اس بارہ میں ہوا وہ الہام خدا تعالیٰ کا لاکھوں انسانوں میں شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔” بخرام کہ وقت تو نز دیک رسید و پائے محمد یاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار۔خدا تیرے سب کام درست کرے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۲۔اور خوب غور کرو کہ میرے نشانوں سے کیا مدعا ٹھہرایا گیا۔ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ اس مطلب کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام آئے تھے تا تکذیب کی حالت میں نئے نشانوں کے ساتھ تو ریت کی تصدیق کریں۔اور اسی مطلب کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا نئے نشانوں کے ساتھ قرآن شریف کی سچائی غافل لوگوں پر ظاہر کی جائے۔اسی کی طرف الہام الہی میں اشارہ ہے کہ پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔اور یہی اشارہ اس دوسرے الہام براہین احمدیہ میں ہے۔الرَّحْمٰنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ - لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْهُمْ مِنْ نَذِيرٍ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ - قُلْ إِنِّي اُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔اگر کوئی کہے کہ حضرت عیسی نبی اللہ ہو کر توریت کی تصدیق کے لئے آئے۔پس اُن کے مقابل پر تمہاری گواہی کیا قدر رکھتی ہے۔اس جگہ بھی تصدیق جدید کے لئے کوئی نبی ہی چاہیے تھا سو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں اس نبوت کا دروازہ تو بند ہے جو اپنا سکہ جمائی ہو۔اللہ تعالی 66 -