تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 421

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۱ سورة الجمعة فرماتا ہے وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ (الاحزاب : ۴۱) اور حدیث میں ہے لانبی بعدی۔اور با ایں ہمہ حضرت مسیح کی وفات نصوص قطعیہ سے ثابت ہو چکی لہذا دنیا میں اُن کے دوبارہ آنے کی اُمید طمع خام۔اور اگر کوئی اور نبی نیا یا پرانا آوے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیوں کر خاتم الانبیاءر ہیں۔ہاں وحی ولایت اور مکالمات الہیہ کا دروازہ بند نہیں ہے جس حالت میں مطلب صرف یہ ہے کہ نئے نشانوں کے ساتھ دین حق کی تصدیق کی جائے اور بچے دین کی شہادت دی جائے تو جو نشان خدا تعالیٰ کے نشان ہیں خواہ وہ نبی کے ذریعہ سے ظاہر ہوں اور خواہ ولی کے ذریعہ سے وہ سب ایک درجہ کے ہیں کیونکہ بھیجنے والا ایک ہی ہے۔ایسا خیال کرنا سراسر جہالت اور حمق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نبی کے ہاتھ سے اور نبی کے ذریعہ سے کوئی تائید سماوی کرے تو وہ قوت اور شوکت میں زیادہ ہے۔اور اگر ولی کی معرفت وہ تائید ہو تو وہ قوت اور شوکت میں کم ہے بلکہ بعض نشان تو تائید اسلام کے ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ اس وقت نہ کوئی نبی ہوتا ہے اور نہ ولی جیسا کہ اصحاب الفیل کے ہلاک کرنے کا نشان ظاہر ہوا۔یہ تو مسلم ہے کہ ولی کی کرامت نبی متبوع کا معجزہ ہے پھر جبکہ کرامت بھی معجزہ ہوئی تو منجزات میں تفریق کرنا ایمانداروں کا کام نہیں۔ماسوا اس کے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ محدث بھی نبیوں اور رسولوں کی طرح خدا کے مرسلوں میں داخل ہے۔بخاری میں وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِي وَلَا مُحَذَبٍ کی قراءت غور سے پڑھو۔اور نیز ایک دوسری حدیث میں ہے کہ علماء أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيل۔صوفیا نے اپنے مکاشفات سے بھی اس حدیث کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح کی ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ مسلم میں مسیح موعود کے حق میں نبی کا لفظ بھی آیا ہے یعنی بطور مجاز اور استعارہ کے۔اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں بھی ایسے الفاظ خدا تعالی کی طرف سے میرے حق میں ہیں۔دیکھو صفحہ ۴۹۸ میں یہ الہام ہے۔هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدی۔اس جگہ رسول سے مراد یہ عاجز ہے۔اور پھر دیکھو صفحہ ۵۰۴ برا این احمدیہ میں یہ الہام جرى اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ۔جس کا ترجمہ ہے خدا کا رسول نبیوں کے لباس میں۔اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی۔پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں اس کو عوام میں سے سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے۔اور خدا کے نشانوں کی شہادتیں کسی طرح کمزور نہیں ہو سکتیں۔خواہ نبی کے ذریعہ سے ہوں یا محدث کے ذریعہ سے۔اصل تو یہ ہے کہ خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کا فیض ایک مظہر پیدا کر کے اپنی گواہی آپ دلاتا ہے اور ولی کو مفت کا نام حاصل ہوتا ہے۔سو در حقیقت ولی جو مصدق ہے وہ آپ سے زینت پاتا ہے آپ اس سے