تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 11
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة يس کے انتہا تک نہیں پہنچ سکتی۔اور وہ اپنے محبوب ازلی کی محبت میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ کوئی رگ وریشہ اُن کی ہستی اور وجود کا باقی نہیں رہتا اور یہ تمام مراتب کے لوگ بموجب آيت كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ اپنے دائرہ استعدا د فطرت سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتے۔اور کوئی اُن میں سے اپنے دائرہ فطرت سے بڑھ کر کوئی نور حاصل نہیں کر سکتا اور نہ کوئی روحانی تصویر آفتاب نورانی کی اپنی فطرت کے دائرہ سے بڑھ کر اپنے اندر لے سکتا ہے اور خدا تعالیٰ ہر ایک کی استعداد فطرت کے موافق اپنا چہرہ اُس کو دکھا دیتا ہے اور فطرتوں کی کمی بیشی کی وجہ سے وہ چہرہ کہیں چھوٹا ہو جاتا ہے اور کہیں بڑا جیسے مثلاً ایک بڑا چہرہ ایک آرسی کے شیشہ میں نہایت چھوٹا معلوم ہوتا ہے مگر وہی چہرہ ایک بڑے شیشہ میں بڑا دکھائی دیتا ہے مگر شیشہ خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا چہرہ کے تمام اعضاء اور نقوش دکھا دیتا ہے صرف یہ فرق ہے کہ چھوٹا شیشہ پورا مقدار چہرہ کا دکھلا نہیں سکتا۔سوجس طرح چھوٹے اور بڑے شیشہ میں یہ کی بیشی پائی جاتی ہے اسی طرح خدا تعالی کی ذات اگر چہ قدیم اور غیر متبدل ہے مگر انسانی استعداد کے لحاظ سے اس میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸،۲۷) وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَاهُمْ مِّنَ الْأَجَدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ۔(۵۲) ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِّنَ الْأَجَدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۹) يَنْسِلُونَ - قف سَلامٌ * قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيمٍ) (۵۹) سلام تو وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو۔خدا کا سلام وہ ہے جس نے حضرت ابراہیم کو آگ سے سلامت رکھا۔جس کو خدا کی طرف سے سلام نہ ہو بندے اس پر ہزار سلام کریں اس کے واسطے کسی کام نہیں آسکتے۔قرآن شریف میں آیا ہے سلم " قَوْلاً مِن رَّبٍ رَّحِيمٍ - اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۳۱ یکم اگست ۱۹۰۷ صفحه ۶) خدائے رحیم کی طرف سے سلامتی ہے۔( تذكرة الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۹) قف