تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 12
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة يس تجھے سلامتی ہے یہ رب رحیم نے فرمایا ہے۔(حقیقة المهدی، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۴۶) تم سب پر اس خدا کا سلام جو رحیم ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۹۴) وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ ) اے مجر مو آج تم الگ ہو جاؤ۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۹) وَمَنْ تُعيرُهُ نُنَكِّسُهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ ، جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اس کی پیدائش کو الٹا دیتے ہیں یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہو جاتی ہیں۔حواس میں اس کے فرق آجاتا ہے۔عقل اس کی زائل ہو جاتی ہے۔اب اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک مدت دراز سے ان کی انسانیت کے قومی میں بکلی فرق آگیا ہوگا اور یہ حالت خود موت کو چاہتی ہے اور یقینی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مدت سے وہ مر گئے ہوں گے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۹) آیت وَ مَنْ نُّعَمرُهُ نُنَكِسُهُ فِي الْخَلق سے حضرت عیسی کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جبکہ بموجب تصریح اس آیت کے ایک شخص جو نو ۹ے یا سو برس تک پہنچ گیا ہو اس کی پیدائش اس قدر اُلٹا دی جاتی ہے که تمام حواس ظاہری و باطنیہ قریب الفقدان یا مفقود ہو جاتے ہیں تو پھر وہ جو دو ہزار برس سے اب تک جیتا ہے اس کے حواس کا کیا حال ہو گا اور ایسی حالت میں وہ اگر زندہ بھی ہوا تو کون سی خدمت دے گا۔اس آیت میں کوئی استثناء موجود نہیں ہے اور ہمیں نہیں چاہیے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے بیان کے آپ ہی ایک استثناء فرض کر لیں۔ہاں اگر نص صریح سے ثابت ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام باوجود جسمانی حیات کے جسمانی تحلیلوں اور تنزل حالات اور فقدان قوی سے منزہ ہیں تو وہ نص پیش کریں۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۶) وَ مِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا یعنی تم پر دو ہی حالتیں وارد ہوتی ہیں ایک یہ کہ بعض تم میں سے قبل از پیرانہ سالی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض ارزل العمر تک پہنچتے ہیں یہاں تک کہ صاحب علم ہونے کے بعد محض نادان ہو جاتے ہیں۔اب اگر خلاف اس نص صریح کے کسی کی