تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 408
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۸ سورة الصف دوسرے مذاہب کا نقص بیان کر سکیں اور مذہبی کشتی کے لئے دنیا کی تمام قوموں کو یہ موقع مل سکے کہ وہ ایک ہی میدان میں اکٹھے ہو کر ایک دوسرے پر مذہبی بحث کے حملے کریں اور جیسا کہ دریا کی ایک لہر دوسری لہر پر پڑتی ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں مشغول ہوں اور یہ مذہبی کشتی نہ ایک دو قوم میں بلکہ عالمگیر کشتی ہو جو دُنیا کی قوموں میں سے کوئی قوم اس کشتی سے باہر نہ ہو۔سو اس قسم کا غلبہ اسلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں میسر نہیں آسکا۔کیونکہ اول تو اُس زمانہ میں دُنیا کی تمام قوموں کا اجتماع ناممکن تھا اور پھر ماسوا اس کے جن قوموں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ پڑا اُن کو مذہبی امور میں دلائل سننے یا دلائل سنانے سے کچھ غرض نہ تھی بلکہ اُنہوں نے اُٹھتے ہی تلوار کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہا اور عقلی طور پر اس کے رد کرنے کے لئے قلم نہیں اُٹھائی۔یہی وجہ ہے کہ اُس زمانہ کی کوئی ایسی کتاب نہیں پاؤ گے جس میں اسلام کے مقابل پر عقل یا نقل کے رنگ میں کچھ لکھا گیا ہو بلکہ وہ لوگ صرف تلوار سے ہی غالب ہونا چاہتے تھے اس لئے خدا نے تلوار سے ہی اُن کو ہلاک کیا مگر ہمارے اس زمانہ میں اسلام کے دشمنوں نے اپنے طریق کو بدل لیا ہے اور اب کوئی مخالف اسلام کا اپنے مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھا تا اور یہی حکمت ہے کہ مسیح موعود کے لئے يضع الحرب کا حکم آیا یعنی جنگ کی ممانعت ہوگئی اور تلوار کی لڑائیاں موقوف ہو گئیں اور اب قلمی لڑائیوں کا وقت ہے اور چونکہ ہم قلمی لڑائیوں کے لئے آئے ہیں اس لئے بجائے لوہے کی تلوار کے لوہے کی قلمیں ہمیں ملی ہیں۔اور نیز کتابوں کے چھاپنے اور دُور دراز ملکوں تک اُن تالیفات کے شائع کرنے کے ایسے سہل اور آسان سامان ہمیں میسر آگئے ہیں کہ گذشتہ زمانوں میں سے کسی زمانہ میں اُن کی نظیر پائی نہیں جاتی۔یہاں تک کہ وہ مضمون جو برسوں تک لکھنے ناممکن تھے وہ دنوں میں لکھے جاتے ہیں۔ایسا ہی وہ تالیفات جن کا دور دراز ملکوں میں پہنچا نا مدت ہائے دراز کا کام تھا وہ تھوڑے ہی دنوں میں ہم دنیا کے کناروں تک پہنچا سکتے ہیں اور اپنی حجت بالغہ سے تمام قوموں کو مطلع کر سکتے ہیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ اشاعت اور اتمام حجت ناممکن تھی کیونکہ اُس وقت نہ کتابوں کے چھاپنے کے آلات تھے اور نہ دوسرے ممالک میں کتابوں کے پہنچانے کے لئے سہل اور آسان طریق میسر تھے۔(۳) تیسرا امر جو اس بات کو تمام دنیا پر واضح کرنے کے لئے شرط ہے کہ فلاں دین بمقابل دنیا کے تمام دینوں کے خاص طور پر خدا سے تائید یافتہ ہے اور خدا کا خاص فضل اور خاص نصرت اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ بمقابل دنیا کی تمام قوموں کے ایسے طور سے تائید الہی کے آسمانی نشان اُس کے شامل ہوں کہ