تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 409
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۹ سورة الصف دوسرے کسی دین کے شامل حال نہ ہوں اور بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے خدا دوسرے دینوں کو تباہ کرتا جائے اور ان کے اندر سے روحانی برکت اُٹھا لے مگر وہ دین دوسرے دینوں کے سامنے خدا کے چمکدار نشانوں سے اپنی ممتاز حالت ثابت کرے اور دُنیا کے اس سرے سے اُس سرے تک کوئی مذہب نشان آسمانی میں اُس کا مقابلہ نہ کر سکے باوجود اس بات کے کہ کوئی حصہ آبادی دُنیا کا اس دعوت مقابلہ سے بے خبر نہ ہو۔یہ امر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کامل طور پر ظہور پذیر ہونا ناممکن تھا کیونکہ اس کے لئے یہ شرط تھی کہ دنیا کی تمام قوموں کو جو مشرق اور مغرب اور جنوب اور شمال میں رہتی ہیں یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل پر اپنے مذہب کی تائید میں خدا سے چاہیں جو آسمانی نشانوں سے اس مذہب کی سچائی پر گواہی دے مگر جس حالت میں ایک قوم دوسری قوم سے ایسی مخفی اور مجوب تھی کہ گویا ایک دوسری دنیا میں رہتی تھی تو یہ مقابلہ ممکن نہ تھا اور نیز اس زمانہ میں ابھی اسلام کی تکذیب انتہا تک نہیں پہنچی تھی اور ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ خدا کی غیرت تقاضا کرے کہ اسلام کی تائید میں آسمانی نشانوں کی بارش ہو مگر ہمارے زمانہ میں وہ وقت آگیا کیونکہ اس زمانہ میں گندی تحریروں کے ذریعہ سے اس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی توہین کی گئی ہے کہ کبھی کسی زمانہ میں کسی نبی کی تو ہین نہیں ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو ثابت نہیں ہوتا کہ کسی عیسائی یا یہودی نے اسلام کے رد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں دو یا تین ورق کا رسالہ بھی لکھا ہو مگر اب اس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین اور اسلام کے رد میں کتابیں لکھی گئیں اور اشتہار شائع کئے گئے اور اخبار میں تمام دنیا میں پھیلائی گئیں کہ اگر وہ تمام جمع کی جائیں تو وہ ایک بڑے پہاڑ کے برابر طومار ہوتا ہے بلکہ اس سے زیادہ۔ان اندھوں نے اسلام کو ہر ایک برکت سے بے بہرہ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آسمانی نشان نہیں دکھلایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا میں اسلام کا نام ونشان نہ رہے اور ایک عاجز انسان کی خدائی ثابت کرنے کے لئے خدا کے پاک دین اور پاک رسول کی وہ تو ہین کی گئی ہے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی دین اور کسی رسول کی ایسی تو ہین نہیں ہوئی اور در حقیقت یہ ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ شیطان اپنے تمام ذریات کے ساتھ ناخنوں تک زور لگا رہا ہے کہ اسلام کو نابود کر دیا جاوے اور چونکہ بلاشبہ سچائی کا جھوٹ کے ساتھ یہ آخری جنگ ہے اس لئے یہ زمانہ بھی اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اس کی اصلاح کے لئے کوئی خدا کا مامور آوے۔پس وہ مسیح موعود ہے جو موجود ہے۔اور زمانہ حق رکھتا تھا کہ اس نازک وقت میں آسمانی نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی دنیا پر حجت پوری ہو