تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 401
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ سورة الصف کو عطا فرمائے ہیں وہ اہم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطا نہیں فرمائے اور جو کچھ اس بارے میں تو فیقات غیبیہ اس عاجز کو دی گئی ہیں وہ ان میں سے کسی کو نہیں دی گئیں۔وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ - سو چونکہ خداوند کریم نے اسباب خاصہ سے اس عاجز کو مخصوص کیا ہے اور ایسے زمانہ میں اس خاکسار کو پیدا کیا ہے کہ جو اتمام خدمت تبلیغ کے لئے نہایت ہی معین و مددگار ہے۔اس لئے اس نے اپنے تفضلات و عنایات سے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ روز ازل سے یہی قرار یافتہ ہے کہ آیت کریمہ متذکرہ بالا اور نیز آیت وَاللهُ متم نورہ کا روحانی طور پر مصداق یہ عاجز ہے اور خدائے تعالیٰ ان دلائل و براہین کو اور ان سب باتوں کو کہ جو اس عاجز نے مخالفوں کے لئے لکھی ہیں خود مخالفوں تک پہنچا دے گا اور ان کا عاجز اور لاجواب اور مغلوب ہونا دنیا میں ظاہر کر کے مفہوم آیت متذکرہ بالا کا پورا کر دے گا۔براہین احمدیہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۳ تا ۵۹۷ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رُو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت وَ اِنَّا عَلى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ (المؤمنون : ١٩) جس کے بحساب جمل ۲۷۴ عدد ہیں۔اسلامی چاند کی سطح کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے اور یہ آیت که هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدّین محله در حقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے کیونکہ تمام ادیان پر روحانی غلبہ بجز اس زمانہ کے کسی اور زمانہ میں ہرگز ممکن نہیں تھا۔ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۴) رعقلی جس قدر حق کے مقابل پر اب معقول پسندوں کے دلوں میں اوہام باطلہ پیدا ہوئے ہیں اور اعتراضات کا ایک طوفان برپا ہوا ہے اس کی نظیر کسی زمانہ میں پہلے زمانوں میں سے نہیں پائی جاتی۔لہذا ابتداء سے اس امر کو بھی کہ ان اعتراضات کا براہین شافیہ و کافیہ سے بحوالہ آیات فرقان مجید بکلی استیصال کر کے تمام ادیان باطلہ پر فوقیت اسلام ظاہر کر دی جائے اسی زمانہ پر چھوڑا گیا تھا کیونکہ پیش از ظهور مفاسدان مفاسد کی اصلاح کا تذکرہ محض بے محل تھا۔اسی وجہ سے حکیم مطلق نے ان حقائق اور معارف کو اپنی کلام پاک میں مخفی رکھا اور کسی پر ظاہر نہ کیا جب تک کہ اُن کے اظہار کا وقت آگیا۔ہاں اس وقت کی اس نے پہلے سے اپنی کتاب عزیز میں خبر دے رکھی تھی جو آیت هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالھدی میں صاف اور کھلے