تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 400
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰ سورة الصف پہنچا ہوا معلوم ہوتا ہے اور گمراہی کا کمال رو بزوال نظر آتا ہے کچھ خدا کی طرف سے ہی طبائع سلیمہ صراط مستقیم کی تلاش میں لگ گئے ہیں اور نیک اور پاکیزہ فطرتیں طریقہ حقہ کے مناسب حال ہوتی جاتی ہیں اور توحید کے قدرتی جوش نے مستعد دلوں کو وحدانیت کے چشمہ صافی کی طرف مائل کر دیا ہے اور مخلوق پرستی کی عمارت کا بودہ ہونا دانشمند لوگوں پر کھلتا جاتا ہے اور مصنوعی خدا پھر دوبارہ نظمندوں کی نظر میں انسانیت کا جامہ پہنتے جاتے ہیں اور با ایں ہمہ آسمانی مدددین حق کی تائید کے لئے ایسے جوش میں ہے کہ وہ نشان اور خوارق جن کی سماعت سے عاجز اور ناقص بندے خدا بنائے گئے تھے اب وہ حضرت سید الرسل کے ادنیٰ خادموں اور چاکروں سے مشہود اور محسوس ہورہے ہیں اور جو پہلے زمانہ کے بعض نبی صرف اپنے حواریوں کو چھپ چھپ کر کچھ نشان دکھلاتے تھے۔اب وہ نشان حضرت سید الرسل کے احقر توابع سے دشمنوں کے رو برو ظاہر ہوتے ہیں اور انہیں دشمنوں کی شہادتوں سے حقیت اسلام کا آفتاب تمام عالم کے لئے طلوع کرتا جاتا ہے۔ماسوا اس کے یہ زمانہ اشاعت دین کے لئے ایسا مددگار ہے کہ جو امر پہلے زمانوں میں سو سال تک دنیا میں شائع نہیں ہوسکتا تھا۔اب اس زمانہ میں وہ صرف ایک سال میں تمام ملکوں میں پھیل سکتا ہے۔اس لئے اسلامی ہدایت اور ربانی نشانوں کا نقارہ بجانے کے لئے اس قدر اس زمانہ میں طاقت وقوت پائی جاتی ہے جو کسی زمانہ میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔صد ہا وسائل جیسے ریل و تار و اخبار وغیرہ اسی خدمت کے لئے ہر وقت طیار ہیں کہ تا ایک ملک کے واقعات دوسرے ملک میں پہنچا ویں۔سو بلاشبہ معقولی اور روحانی طور پر دین اسلام کے دلائل حقیت کا تمام دنیا میں پھیلنا ایسے ہی زمانہ پر موقوف تھا اور یہی با سامان زمانہ اس مہمان عزیز کی خدمت کرنے کے لئے من کل الوجوہ اسباب مہیار رکھتا ہے۔پس خداوند تعالیٰ نے اس احقر عباد کو اس زمانہ میں پیدا کر کے اور صد بانشان آسمانی اور خوارق نہیں اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صد با دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیمات حقہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرماوے اور اپنی حجت ان پر پوری کرے۔اور اس ارادہ کی وجہ سے خداوند کریم نے اس عاجز کو یہ توفیق دی کہ اتماماً للحجة دس ہزار روپیہ کا اشتہار کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا اور دشمنوں اور مخالفوں کی شہادت سے آسمانی نشانی پیش کی گئی اور اُن کے معارضہ اور مقابلہ کے لئے تمام مخالفین کو مخاطب کیا گیا تا کوئی دقیقہ اتمام حجت کا باقی نہ رہے اور ہر یک مخالف اپنے مغلوب اور لاجواب ہونے کا آپ گواہ ہو جائے۔غرض خداوند کریم نے جو اسباب اور وسائل اشاعت دین کے اور دلائل اور براہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل اور کرم سے اس عاجز