تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 399
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۹ سورة الصف ایک ہی جو ہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی بار یک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد سے صلی اللہ علیہ وسلم۔سوچونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے ہے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اُس کا محل اور مورد ہے یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جونج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے۔گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو اور اگر چہ دین اسلام اپنے دلائل حقہ کے رو سے قدیم سے غالب چلا آیا ہے اور ابتدا سے اس کے مخالف رسوا اور ذلیل ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس غلبہ کا مختلف فرقوں اور قوموں پر ظاہر ہونا ایک ایسے زمانہ کے آنے پر موقوف تھا کہ جو باعث کھل جانے راہوں کے تمام دنیا کو ممالک متحدہ کی طرح بنا تا ہو اور ایک ہی قوم کے حکم میں داخل کرتا ہو اور تمام اسباب اشاعت تعلیم اور تمام وسائل اشاعت دین کے تمام تر سہولت و آسانی پیش کرتا ہو اور اندرونی اور بیرونی طور پر تعلیم حقانی کے لئے نہایت مناسب اور موزوں ہو سو اب وہی زمانہ ہے کیونکہ باعث کھل جانے راستوں اور مطلع ہونے ایک قوم کے دوسری قوم سے اور ایک ملک کے دوسرے ملک سے سامان تبلیغ کا بوجہ احسن میسر آ گیا ہے اور بوجہ انتظام ڈاک دریل و تار و جہاز و وسائل متفرقه اخبار وغیرہ کے دینی تالیفات کی اشاعت کے لئے بہت سی آسانیاں ہوگئی ہیں۔غرض بلاشبہ اب وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ جس میں تمام دنیا ایک ہی ملک کا حکم پیدا کرتی جاتی ہے۔اور باعث شائع اور رائج ہونے کئی زبانوں کے تفہیم تقسیم کے بہت سے ذریعے نکل آئے ہیں اور اور غیریت اور اجنبیت کی مشکلات سے بہت سی سبکدوشی ہو گئی ہے۔اور بوجہ میل ملاپ دائگی اور اختلاط شباروزی کی وحشت اور نفرت بھی کہ جو بالطبع ایک قوم کو دوسری قوم سے تھی بہت سی گھٹ گئی ہے چنانچہ اب ہندو بھی جن کی دنیا ہمیشہ ہمالہ پہاڑ کے اندر ہی اندر تھی اور جن کو سمندر کا سفر کرنا مذہب سے خارج کردیتا تھا لنڈن اور امریکہ تک سیر کر آتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ اس زمانہ میں ہر یک ذریعہ اشاعت دین کا اپنی وسعت تامہ کو پہنچ گیا ہے اور گودنیا پر بہت سی ظلمت اور تاریکی چھا رہی ہے مگر پھر بھی ضلالت کا دورہ اختتام پر