تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 398
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۸ سورة الصف لاویں گے مگر خدا اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اگر چہ کا فرلوگ کراہت ہی کریں۔ ( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۲۶ ) مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ نورِ خدا کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر خدا اپنے نور کو پورا کرے گا اگر چہ منکر لوگ کراہت ہی کریں۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۱) یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہیں ہوگی ۔ یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے گا۔ لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے۔ (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۰) یہ شریر کافر اپنے منہ کی پھونکوں سے نور اللہ کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے۔ کافر برا مناتے رہیں ۔ منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں؟ یہی کسی نے ٹھگ کہہ دیا۔ کسی نے دوکاندار اور کافر بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہو جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۳) ناعاقبت اندیش نادان دوستوں نے خدا تعالیٰ کے اس سلسلہ کی قدر نہیں کی بلکہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ یہ نور نہ چمکے۔ یہ اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے والله متم نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۷ ۱ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ ء صفحه ۵) هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔ اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جميع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس کی عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت با ہم نہایت ہی متشابہ واقع بہ واقع ہوئی ہے گویا