تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 9
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹ سورة يس بھی ہے گویا وہ عام اور کامل خالقیت سے عاجز تھا تبھی تو تھوڑ اسا بنا کر باقی بے انتہا فضا چھوڑ دی اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس استقرائی ثبوت کے انکار میں کہ کوئی فضا کسی جو ہر لطیف سے خالی نہیں کون سی یقینی اور قطعی دلیل ایسے شخصوں کے ہاتھ میں ہے جو مجز دپول کے قائل ہیں یا قائل ہوں۔اگر کوئی شخص ایسا ہی اعتقاد اور رائے رکھتا ہے کہ چند مادی کروں کے بعد تمام پول ہی پڑا ہے جو بے انتہا ہے تو وہ ہماری اس حجت استقرائی سے صاف اور صریح طور پر ملزم ٹھہر جاتا ہے ظاہر ہے کہ استقراء وہ استدلال اور حجت کی قسم ہے جو اکثر دنیا کے ثبوتوں کو اسی سے مدد ملی ہے مثلاً ہمارا یہ قول کہ انسان کی دو آنکھیں ہوتی ہیں اور ایک زبان اور دوکان اور وہ عورتوں کی پیشاب گاہ کی راہ سے پیدا ہوتا ہے اور پہلے بچہ پھر جوان اور پھر بڑھا ہوتا ہے اور آخر کسی قدر عمر پا کر مر جاتا ہے اور ایسا ہی ہمارا یہ قول کہ انسان سوتا بھی ہے اور کھاتا بھی اور آنکھوں سے دیکھتا اور ناک سے سونگھتا اور کانوں کے ذریعہ سے سنتا اور پیروں سے چلتا اور ہاتھوں سے کام کرتا اور دوکانوں میں اس کا سر ہے اور ایسا ہی اور صدہا باتیں اور ہر ایک نوع نباتات اور جمادات اور حیوانات کی نسبت جو ہم نے طرح طرح کے خواص دریافت کئے ہیں ان سب کا ذریعہ بجز استقراء کے اور کیا ہے۔پھر اگر استقراء میں کسی کو کلام ہو تو یہ تمام علوم درہم برہم ہو جائیں گے اور اگر یہ خلجان ان کے دلوں میں پیدا ہو کہ آسمانوں کا اگر کچھ وجود ہے تو کیوں نظر نہیں آتا۔تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہر ایک وجود کا مرئی ہونا شرط نہیں جو وجود نہایت لطافت اور بساطت میں پڑا ہے وہ کیوں کر نظر آ جائے اور کیوں کر کوئی دور بین اس کو دریافت کر سکے۔غرض سماوی وجود کو خدا تعالیٰ نے نہایت لطیف قرار دیا ہے چنانچہ اسی کی تصریح میں یہ آیت اشارہ کر رہی ہے کہ حلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ یعنی ہر ایک ستارہ اپنے اپنے آسمان میں جو اس کا مبلغ دور ا ہے تیر رہا ہے۔اور در حقیقت خدا تعالیٰ نے یونانیوں کے محدّد کی طرح اپنے عرش کو قرار نہیں دیا اور نہ اس کو محدود قرار دیا۔ہاں اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ ایک طبقہ قرار دیا ہے جس سے باعتبار اس کی کیفیت اور کمیت کے اور کوئی اعلیٰ طبقہ نہیں ہے اور یہ امر ایک مخلوق اور موجود کے لئے ممتنع اور محال نہیں ہوسکتا۔بلکہ نہایت قرین قیاس ہے کہ جو طبقہ عرش اللہ کہلاتا ہے وہ اپنی وسعتوں میں خدائے غیر محدود کے مناسب حال اور غیر محدود ہو۔اور اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت آسمان پھٹ جائیں گے اور ان میں شگاف ہو جائیں گے اگر وہ لطیف مادہ ہے تو اس کے پھٹنے کے کیا معنے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ اکثر قرآن کریم میں سماء سے مراد كُل ما في السَّمَاءِ کو لیا ہے جس میں آفتاب اور ماہتاب اور تمام ستارے داخل