تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 8
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام Δ سورة يس یونانیوں کی اس رائے پر جس قدر اعتراض وارد ہوتے ہیں وہ پوشیدہ نہیں نہ صرف قیاسی طور پر بلکہ تجربہ بھی ان کا مکذب ہے جس حالت میں آج کل کے آلات دور بین نہایت دور کے ستاروں کا بھی پتہ لگاتے جاتے ہیں اور چاند اور سورج کو ایسا دکھا دیتے ہیں کہ گویا وہ پانچ چار کوس پر ہیں تو پھر تعجب کا مقام ہے کہ باوجود یکہ آسمان یونانیوں کے زعم میں ایک کثیف جو ہر ہے اور ایسا کثیف جو قابل خرق والتیام نہیں اور اس قدر بڑا کہ گویا چاند اور سورج کو اس کی ضخامت کے ساتھ کچھ بھی نسبت نہیں۔پھر بھی وہ ان دور بین آلات سے نظر نہیں آسکا۔اگر دور کے آسمان نظر نہیں آتے تھے تو سماء الدنیا جو سب سے قریب ہے ضرور نظر آ جانا چاہئے تھا پس کچھ شک نہیں کہ جو یونانیوں نے عالم بالا کی تصویر دکھائی ہے وہ صحیح نہیں اور اس قدر اس پر اعتراض پیدا ہوتے ہیں کہ جن سے مخلصی حاصل کرنا ممکن ہی نہیں لیکن قرآن کریم نے جو سماوات کی حقیقت بیان کی ہے وہ نہایت صحیح اور درست ہے جس کے ماننے کے بغیر انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا اور اس کی مخالفت میں جو کچھ بیان کیا جائے وہ سراسرنا واقعی یا تعصب پر مبنی ہو گا۔قرآن کریم نہ آسمانوں کو یونانی حکماء کی طرح طبقات کثیفہ ٹھہراتا ہے اور نہ بعض نادانوں کے خیال کے موافق نرا پول جس میں کچھ بھی نہیں۔چنانچہ شق اول کی معقولی طور پر غلطی ظاہر ہے جس کی نسبت ہم ابھی بیان کر چکے ہیں۔اور شق دوم یعنی یہ کہ آسمان کچھ بھی وجود مادی نہیں رکھتا نرا پول ہے استقرا کی رو سے سراسر غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر ہم اس فضا کی نسبت جو چمکتے ہوئے ستاروں تک ہمیں نظر آتا ہے بذریعہ اپنے تجارب استقرائیہ کے تحقیقات کرنا چاہیں تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ سنت اللہ یا قانون قدرت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کسی فضا کو محض خالی نہیں رکھا چنانچہ جو شخص غبارہ میں بیٹھ کر ہوا کے طبقات کو چیرتا چلا جاتا ہے وہ شہادت دے سکتا ہے کہ جس قدر وہ اوپر کو چڑھا اس نے کسی حصہ فضا کو خالی نہیں پایا پس یہ استقر اہمیں اس بات کے سمجھنے کے لئے بہت مدد دے سکتا ہے کہ اگر چہ یونانیوں کی طرح آسمان کی حد بست ناجائز ہے مگر یہ بھی تو درست نہیں ہے کہ آسمانوں سے مراد صرف ایک خالی فضا اور پول ہے جس میں کوئی مخلوق مادہ نہیں ہم جہاں تک ہمارے تجارب رویت رسائی رکھتے ہیں کوئی مجرد پول مشاہدہ نہیں کرتے پھر کیوں کر خلاف اپنی مستمر استقرا کے حکم کر سکتے ہیں کہ ان مملو فضاؤں سے آگے چل کر ایسے فضا بھی ہیں جو بالکل خالی ہیں۔کیا بر خلاف ثابت شدہ استقراء کے اس وہم کا کچھ بھی ثبوت ہے ایک ذرا بھی نہیں۔پھر کیوں کر ایک بے بنیا دو ہم کو قبول کیا جائے اور مان لیا جائے۔ہم کیوں کر ایک قطعی ثبوت کو بغیر کسی مخالفانہ اور غالب ثبوت کے چھوڑ سکتے ہیں اور علاوہ اس کے اللہ جل شانہ کی اس میں کسر شان