تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 383

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وَرَضُوا عَنْهُ - ۳۸۳ سورة المجادلة الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۳) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ میں حواریوں کو پیش کرتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے۔حواریوں کی تعریف میں ساری انجیل میں ایک بھی ایسا فقرہ نظر نہ آئے گا۔کہ انہوں نے میری راہ میں جان دے دی۔بلکہ برخلاف اس کے ان کے اعمال ایسے ثابت ہوں گے جس سے معلوم ہو کہ وہ حد درجہ کے غیر مستقل مزاج ، غدار اور بے وفا اور دنیا پرست تھے اور صحابہ کرام نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی راہ میں وہ صدق دکھلایا کہ انہیں رضی اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کی آواز آ گئی۔یہ اعلیٰ درجہ کا مقام ہے۔جو صحابہ کو حاصل ہوا۔یعنی اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے۔اس مقام کی خوبیاں اور کمالات الفاظ میں ادا نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ سے راضی ہو جانا ہر شخص کا کام نہیں بلکہ یہ توکل ہمبتل اور رضا و تسلیم کا اعلیٰ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کو کسی قسم کا شکوہ اور شکایت اپنے مولیٰ سے نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے راضی ہونا یہ موقوف ہے بندے کے کمال صدق و وفاداری اور اعلی درجہ کی پاکیزگی اور طہارت اور کامل اطاعت پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے معرفت اور سلوک کے تمام مدارج طے کر لیے تھے۔اس کا نمونہ حواریوں میں اگر تلاش کریں تو ہر گز نہیں مل سکتا۔پس ترے سلپ امراض پر خوش ہو جانا یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے اور روحانی کمالات کا شیدائی ان باتوں پر خوش نہیں ہوسکتا۔اس لیے میں تمہارے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ تم اپنے دل کو پاک کرو اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسے تعلقات پیدا کرو کہ وہ مولیٰ کریم تم سے راضی ہو جاوے اور تم اس سے راضی ہو جاؤ۔پھر وہ تمہارے جسم میں تمہاری باتوں میں ایسی برکت رکھ دے گا۔جو سلب امراض کرنے والے بھی انہیں دیکھ کر حیران اور شرمندہ ہوں گے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۹ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۵ء صفحه ۹) جو جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میسر آئی تھی اور جس نے آپ کی قوت قدسی سے اثر پایا تھا اس کے لیے قرآن شریف میں آیا ہے رضيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ اس کا سبب کیا ہے؟ یہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا نتیجہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وجوہ فضیلت میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ آپ نے ایسی اعلیٰ درجہ کی جماعت طیار کی۔میرا دعویٰ ہے کہ ایسی جماعت آدم سے لے کر آخر تک کسی کو نہیں ملی۔الحکم جلد ۱۰ نمبر امورخه ۱۰ر جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۳) صحابہ کی جو تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کی نسبت