تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 382
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۲ سورة المجادلة وَكَلِمٰتِه (الاعراف : ۱۵۹) اب اللہ تعالیٰ کے کلمات تو لا انتہا ہیں اور ایسا ہی صحابہ کی تعریف میں آیا ہے ايد هم يروح منہ پھر سیخ کی کیا خصوصیت رہی۔الحکم جلد نمبر ۱۶ مورخه ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸) جسمانی علوم پر نازاں ہونا حماقت ہے۔چاہیے کہ تمہاری طاقت روح کی طاقت ہو۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے سائنس یا فلسفہ یا منطق پڑھایا اور ان سے مدد دی بلکہ یہ کہ أَيَّدَهُم بِرُوحِ مِنْهُ یعنی اپنی روح سے مدد دی۔صحابہ امی تھے۔ان کا نبی ( سیدنا محمد علیہ الصلوۃ والسلام ) بھی امی۔مگر جو پر حکمت باتیں انہوں نے بیان کیں وہ بڑے بڑے علماء کو نہیں سو جھیں۔کیونکہ ان پر خدا کی خاص تائید تھی۔تقوی وطہارت و پاکیزگی سے اندرونی طور سے مدد ملتی ہے۔یہ جسمانی علوم کے ہتھیار کمزور ہتھیار ہیں ممکن بلکہ اغلب ہے کہ مخالف کے پاس ان سے بھی زیادہ تیز ہتھیار ہوں پس ہتھیار وہ چاہیے جس کا مقابلہ دشمن نہ کر سکے۔وہ ہتھیار سچی تبدیلی و دل کا تقدس و تعلیم ہے۔البدر جلد نمبر ۱۹ ۲۰ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء صفحه ۳) دیکھو اللہ تعالیٰ نے بعض کا نام سابق مہاجر اور انصار رکھا ہے اور ان کو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ میں داخل کیا ہے۔یہ وہ لوگ تھے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جو بعد میں ایمان لائے ان کا نام صرف ناس رکھا ہے جیسے فرما یا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَزْوَاجًا ( النصر :٣،٢) یہ لوگ جو اسلام میں داخل ہوئے اگر چہ وہ مسلمان تھے مگر ان کو مراتب نہیں ملے جو پہلے لوگوں کو دیئے گئے۔الحاکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ صفحہ ۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو دیکھو کہ انہوں نے بکریوں کی طرح اپنا خون بہا دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ایسے گم ہو گئے تھے کہ وہ اس کے لئے ہر ایک تکلیف اور مصیبت اُٹھانے کو ہر وقت طیار تھے۔انہوں نے یہاں تک ترقی کی کہ رضيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا سرٹیفیکیٹ ان کو دیا گیا۔الحکم جلد ۸ نمبرے مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۲) وہ جماعت ( جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے کہ انہوں نے ایسے اعمال صالحہ کیسے کہ خدا تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو گئے ) صرف ترک بدی ہی سے نہ بنی تھی۔انہوں نے اپنی زندگیوں کو خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے بیج سمجھا۔خدا کی مخلوق کو نفع پہنچانے کے واسطے اپنے آرام و آسائش کو ترک کر دیا۔تب جا کر وہ ان مدارج اور مراتب پر پہنچے کہ آواز آ گئی رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ