تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 381
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۱ سورة المجادلة خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ابتلاء کے طور پر دو روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شتر کا نام ابلیس اور شیطان ہے۔یہ دونوں داعی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۰ ۸۱ حاشیه ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وَ آيَدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ یعنی ان کو 9 روح القدس کے ساتھ مدددی اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قو تیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خدا تعالی کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔کیونکہ اس کے مقرب وہی ہیں جو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ وہ ہے اور یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اس کی قدرتیں اور اس کی رحمتیں اور اس کی عقوبتیں اور اس کی عدالتیں سب سچ ہیں اور وہ جمیع فیوض کا مبداء اور تمام نظام عالم کا سر چشمہ اور تمام سلسلہ موثرات اور متاثرات کا علت العلل ہے مگر متصرف بالا رادہ جس کے ہاتھ میں کل ملکوت السموات والارض ہے اور یہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعوی ہے کہ وہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے اور تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مردے ہیں جن میں اس حیات کی روح نہیں ہے اور حیات روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قومی ہیں جو روح القدس کی تائید سے زندہ ہو جاتے ہیں اور قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ جن احکام پر اللہ جل شانہ انسان کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ چھ سو ہیں ایسا ہی اس کے مقابل پر جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی چھ سو ہیں اور بیضہ بشریت جب تک چھ سو حکم کو سر پر رکھ کر جبرائیل کے پروں کے نیچے نہ آوے اس میں فنا فی اللہ ہونے کا بچہ پیدا نہیں ہوتا اور انسانی حقیقت اپنے اندر چھ سو بیضہ کی استعداد رکھتی ہے۔پس جس شخص کا چھ سو بیضہ استعداد جبرائیل کے چھ سو پر کے نیچے آ گیا وہ انسان کامل اور یہ تولد اس کا تولد کامل اور یہ حیات حیات کامل ہے اور غور کی نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ بیضہ بشریت کے روحانی بچے جو روح القدس کی معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت سے پیدا ہوئے وہ اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور نوع اور حالت میں تمام انبیاء کے بچوں سے اتم اور اکمل ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۹۴ تا ۱۹۷) کلمہ اور روح کا لفظ عام ہے حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں ہے يُؤْمِنُ بِاللهِ