تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 7
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷ سورة يس رکھی ہے کہ تم میں تیس دجال آئیں گے اور ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا۔اس کا جواب یہی ہے کہ اے نادانوں بدنصیبو۔کیا تمہاری قسمت میں تیس دجال ہی لکھے ہوئے تھے۔چودھویں صدی کا شمس بھی گزرنے پر ہے اور خلافت کے چاند نے اپنے کمال کی چودہ منزلیں پوری کر لیں جس کی طرف آیت وَالْقَمَرَ قدرتهُ مَنَازِلَ بھی اشارہ کرتی ہے اور دنیا ختم ہونے لگی مگر تم لوگوں کے دجال ابھی ختم ہونے میں نہیں آتے شاید تمہاری موت تک تمہارے ساتھ رہیں گے۔و ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۵ حاشیه ) نواب صدیق الحسن خان نے لکھا ہے کہ نزول مسیح میں کوئی شخص چودھویں صدی سے آگے نہیں بڑھتا (یعنی جس قدر مکاشفات اور اخبار ہیں وہ تمام چودھویں صدی تک کی خبر دیتی ہیں ) ترقی قمر بھی ۱۴ تک ہی و معلوم ہوتی ہے جیسے قرآن شریف میں ہے وَ الْقَمَرَ قَدَّرُنَهُ مَنَازِلَ حَلَى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ - (البدر جلد نمبر ۵ ، ۶ مورخه ۲۸ /نومبر و ۵ / دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۹) سورج کو یہ طاقت نہیں کہ چاند کی جگہ پہنچ جائے اور نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے۔کوئی ستارہ اپنے فلک مقرری سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔( براہینِ احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۳ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) آج کل کے علم ہیئت کے محققین جو یورپ کے فلاسفر ہیں جس طرز سے آسمانوں کے وجود کی نسبت خیال رکھتے ہیں در حقیقت وہ خیال قرآن کریم کے مخالف نہیں کیونکہ قرآن کریم نے اگر چہ آسمانوں کو نرا پول تو نہیں ٹھہرایا لیکن اس سماوی مادہ کا جو پول کے اندر بھرا ہوا ہے صلب اور کثیف اور متعسر الخرق مادہ بھی قرار نہیں دیا بلکہ ہوا یا پانی کی طرح نرم اور کثیف مادہ قرار دیا جس میں ستارے تیرتے ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ہاں یونانیوں نے آسمانوں کو اجسام کثیفہ تسلیم کیا ہوا ہے اور پیاز کے چھلکوں کی طرح تہ بتہ ان کو مانا ہے اور آخری تہ کا آسمان جو تمام تہوں پر محیط ہورہا ہے جمیع مخلوقات کا انتہا قرار دیا ہے جس کو وہ فلک الافلاک اور محمد دبھی کہتے ہیں جو ان کے زعم میں معہ تین اور آسمانوں کے جن کا نام مدیر اور جوز ہر اور مائل ہے مشرق سے مغرب کی طرف گردش کرتا ہے اور باقی آسمان مغرب سے مشرق کی طرف گھومتے ہیں اور ان کے گمان میں فلک محد د معمورہ عالم کا منتہا ہے جس کے پیچھے خلا ملا نہیں۔گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ممالک مقبوضہ کی ایک دیوار کھینچی ہوئی ہے جس کا ماورا کچھ بھی نہیں نہ خلا نہ ملا۔