تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 368

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۸ سورة الحديد جسمانی اور روحانی نہریں نہ تھیں تو دوسرے ملک روحانی نہر نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے تھے اور زمین مرچکی تھی جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی یہ بات تمہیں معلوم ہے کہ زمین سب کی سب مرگئی تھی اب خدا تعالیٰ نئے سر سے اس کو زندہ کرتا ہے پس یہ زبردست دلیل ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی کہ آپ ایسے وقت میں آئے کہ ساری دنیا عام طور پر بدکاریوں اور بداعتقادیوں میں مبتلا ہو چکی تھی اور حق و حقیقت اور تو حید اور پاکیزگی سے خالی ہوگئی تھی۔اورا الحام جلد 4 نمبر ۱۰ مورخہ ۷ اس مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۴) آسمان اور زمین میں ایسے تعلقات ہیں جیسے نرومادہ میں ہوتے ہیں۔زمین میں بھی کنوئیں ہوتے ہیں لیکن زمین پھر بھی آسمانی پانی کی محتاج رہتی ہے۔جب تک آسمان سے بارش نہ ہو زمین مردہ سمجھی جاتی ہے اور اس کی زندگی اس پانی پر منحصر ہے جو آسمان سے آتا ہے۔اسی واسطے فرمایا ہے اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُخي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب آسمان سے پانی برسنے میں دیر ہو اور امساک باراں ہو تو کنوؤں کا پانی بھی خشک ہونے لگتا ہے۔اور ان ایام میں دیکھا گیا ہے کہ پانی اتر جاتا ہے۔لیکن جب برسات کے دن ہوں اور مینہ برسنے شروع ہوں تو کنووں کا پانی بھی جوش مار کر چڑھتا ہے کیونکہ اوپر کے پانی میں قوت جاز بہ ہوتی ہے اب براہموں سوچیں کہ اگر آسمانی پانی نازل ہونا چھوڑ دے تو سب کنوئیں خشک ہو جائیں اسی طرح پر ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نور قلب ہر ایک انسان کو دیا ہے۔اور اس کے دماغ میں عقل رکھی ہے۔جس سے وہ برے بھلے میں تمیز کرنے کے قابل ہوتا ہے۔لیکن اگر نبوت کا نور آسمان سے نازل نہ ہو اور یہ سلسلہ بند ہو جاوے تو دماغی عقلوں کا سلسلہ جاتا رہے اور نور قلب پر تار یکی پیدا ہو جاوے اور وہ بالکل کام دینے کے قابل نہ رہے۔کیونکہ یہ سلسلہ اسی نور نبوت سے روشنی پاتا ہے۔جیسے بارش ہونے پر زمین کی روئید گیاں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں۔اور ہر تخم پیدا ہونے لگتا ہے۔اسی طرح پر نور نبوت کے نزول پر دماغی اور ذہنی عقلوں میں ایک صفائی اور نور فراست میں ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔اگر چہ یہ علی قدر مراتب ہوتی ہے اور استعداد کے موافق ہر شخص فائدہ اٹھاتا ہے۔خواہ وہ اس امر کو محسوس کرے یا نہ کرے لیکن یہ سب کچھ ہوتا اسی نور نبوت کے طفیل ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱) خدا کے ساتھ صدق ، وفاداری، اخلاص ، محبت اور خدا پر توکل کالعدم ہو گئے ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ پھر نئے سر سے ان قوتوں کو زندہ کرے وہ خدا جو ہمیشہ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا کرتا رہا ہے