تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 369
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۶۹ سورة الحديد اس نے ارادہ کیا ہے اور اس کے لیے کئی راہیں اختیار کی گئی ہیں۔ایک طرف مامور کو بھیج دیا ہے جو نرم الفاظ میں دعوت کرے اور لوگوں کو ہدایت کرے۔دوسری طرف علوم وفنون کی ترقی ہے اور عقل آتی جاتی ہے۔احکام جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ر مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۹) انسان کو زمین سے بھی تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔ارض کے زندہ کرنے سے مراد اہل زمین ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخه ۶ / مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۸) إِنَّ الْمُصَدِقِينَ وَ الْمُصَدِقتِ وَ اَقْرَضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعَفُ لَهُمُ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيم۔قرآن کریم میں یہ سنت اللہ ہے کہ بعض الفاظ اپنی اصلی حقیقت سے پھر کر مستعمل ہوتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے وَ اَقْرَضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا یعنی قرض دو اللہ کو قرض اچھا۔اب ظاہر ہے کہ قرض کی اصل تعریف کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ انسان حاجت اور لا چاری کے وقت دوسرے سے بوقت دیگر ادا کرنے کے عہد پر کچھ مانگتا ہے لیکن اللہ جل شانہ حاجت سے پاک ہے پس اس جگہ قرض کے مفہوم میں سے صرف ایک چیز مراد لی گئی یعنی اس طور سے لینا کہ پھر دوسرے وقت اس کو واپس دے دینا اپنے ذمہ واجب ٹھہرالیا ہو۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۵،۱۵۴) ربهم وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَبِكَ هُمُ الصّدِيقُونَ * وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَك لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَ نُورُهُمْ وَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا أُولَبِكَ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ جو لوگ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے وہی ہیں کہ جو خدا کے نزدیک صدیق ہیں۔ان کے لئے اجر ہوگا ان کے لئے نور ہوگا۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۴ حاشیہ نمبر ۱۱) مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَبٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ