تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 367

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحديد جان لو کہ خدا نے زمین کو مرنے کے بعد پھر زندہ کیا۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۳۶) قرآن نے بڑی صفائی سے اپنی ضرورت ثابت کی ہے۔قرآن صاف کہتا ہے اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُخي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی اس بات کو جان لو کہ زمین مرگئی تھی اور اب خدا نئے سرے اس کو زندہ کرنے لگا ہے۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۵۵) قرآن شریف نے خود اپنے آنے کی ضرورت یہ پیش کی ہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کی بدچلنی اور بداعتقادی اور بدکاری زمین کے رہنے والوں پر محیط ہو گئی تھی تو اب خدا کا خوف کر کے سوچنا چاہئے کہ کیا باوجود جمع ہونے اتنی ضرورتوں کے پھر بھی خدا نے نہ چاہا کہ اپنے تازہ اور زندہ کلام سے دنیا کو نئے سرے زندہ کرے کیا آپ لوگوں میں سے کوئی شریف اور بھلا مانس اس دلیل پر غور نہیں کرتا کہ قرآن شریف تو خود فرماتا ہے کہ اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی اے انسانو ! تمہیں معلوم ہو کہ زمین مر چکی تھی اور خدا نئے سرے اب اُس کو زندہ کر رہا ہے۔پس قرآن شریف کا یہی ایک نور تھا جس کے آنے سے پھر دنیا نے توحید کی طرف پلٹا کھایا اور تمام جزیزہ عرب توحید سے بھر گیا اور ممالک ایران کی آتش پرستی بھی دور ہوگئی۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶۶ ۲۶۷) پانی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھیلا یا اس کی شان یہ ہے کہ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ (رساله الانذار صفحہ ۱۸) مَوْتِهَا۔۔۔۔۔۔اس پانی سے دُنیا زندہ ہوئی۔خدا تعالیٰ نے قلب کا نام بھی زمین رکھا ہے۔اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا زمیندار کوکس قدر تردد کرنا پڑتا ہے۔بیل خریدتا ہے۔ہل چلاتا ہے۔تخمریزی کرتا ہے۔آب پاشی کرتا ہے غرض یہ کہ بہت بڑی محنت کرتا ہے اور جب تک خود دخل نہ دے کچھ بھی نہیں بنتا۔لکھا ہے کہ ایک شخص نے پتھر پر لکھا دیکھا۔زرع زرہی زر ہے۔کھیتی تو کر نے لگا، مگر نوکروں کے سپر د کر دی۔لیکن جب حساب لیا۔کچھ وصول ہونا تو در کنار کچھ واجب الادا ہی نکلا۔پھر اُس کو اس موقعہ پر شک پیدا ہوا تو کسی دانشمند نے سمجھایا کہ نصیحت تو سچی ہے، لیکن تمہاری بے وقوفی ہے۔خود مہتم بنو، تب فائدہ ہوگا۔ٹھیک اسی طرح پر ارضِ دل کی خاصیت ہے جو اُس کو بے عزتی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اس کو خدا تعالیٰ کا فضل اور برکت نہیں ملتی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۲، صفحہ ۱۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے جسمانی جنگل میں پیدا ہوئے ویسے ہی روحانی جنگل بھی تھا مکہ میں اگر