تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 366

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۶ سورة الحديد اور سچائی کے نشان ہیں جو اس لئے بیان کئے گئے تا کہ تم نشانوں کو دریافت کرلو۔اب سوچ کر دیکھو کہ یہ دلیل جو تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے یہ ہم نے اپنے ذہن سے ایجاد نہیں کی۔بلکہ قرآن شریف آپ ہی اس کو پیش کرتا ہے اور دلیل کے دونوں حصے بیان کر کے پھر آپ ہی فرماتا ہے قد بَيَّنَا لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِدُونَ یعنی اس رسول اور اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے پر یہ بھی ایک نشان ہے جس کو ہم نے بیان کر دیا تا تم سوچو اور سمجھو اور حقیقت تک پہنچ جاؤ۔دوسرا پہلو اس دلیل کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت میں دنیا سے اپنے مولی کی طرف بلائے گئے جبکہ وہ اپنے کام کو پورے طور پر انجام دے چکے اور یہ امر قرآن شریف سے بخوبی ثابت ہے۔نور القرآن نمبر ا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۴۰ تا ۳۴۳) ( اس زمانہ کے بعض حق پوش پادریوں نے جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے اس قدر عام اصلاح ہوئی کہ اس کو کسی طرح چھپا نہیں سکتے اور اس کے مقابل پر جو سیح نے اپنے وقت میں اصلاح کی وہ بیچ ہے تو ان پادریوں کو فکر پڑی کہ گمراہوں کو رو با صلاح کرنا اور بدکاروں کو نیکی کے رنگ میں لا نا جواصل نشانی سچے نبی کی ہے۔وہ جیسا کہ اکمل اور اتم طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئی مسیح کی اصلاح میں کوئی بھی اس کی نسبت نہیں پائی جاتی تو انہوں نے اپنے دجالی فریبوں کے ساتھ آفتاب پر خاک ڈالنا چاہا تو نا چار جیسا کہ پادری جیمس کیمرن لیس نے اپنے لیکچر میں شائع کیا ہے۔جاہلوں کو اس طرح پر دھوکا دیا کہ وہ لوگ پہلے سے صلاحیت پذیر ہونے کے مستعد تھے اور بت پرستی اور شرک ان کی نگاہوں میں حقیر ٹھہر چکا تھا۔لیکن اگر ایسی رائے ظاہر کرنے والے اپنے اس خیال میں سچے ہیں تو انہیں لازم ہے کہ اپنے اس خیال کی تائید میں ویسا ہی ثبوت دیں جیسا کہ قرآن کریم ان کے مخالف ثبوت دیتا ہے یعنی فرماتا ہے کہ اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اور ان سب کو مردے قرار دے کر ان کا زندہ کیا جانا محض اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور جابجا کہتا ہے کہ وہ ضلالت کے زنجیروں میں پھنسے ہوئے تھے ہم نے ہی ان کو رہائی دی وہ اندھے تھے ہم نے ہی ان کو سوجا کھا کیا۔وہ تاریکی میں تھے ہم نے ہی نور بخشا اور یہ باتیں پوشیدہ نہیں کہیں بلکہ قرآن ان سب کے کانوں تک پہنچا اور انہوں نے ان بیانات کا انکار نہ کیا اور کبھی یہ ظاہر نہ کیا کہ ہم تو پہلے ہی سے مستعد تھے قرآن کا ہم پر کچھ احسان نہیں۔۔( نور القرآن نمبر ا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۶۶، ۳۶۷ حاشیه )