تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 6

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - سورة يس الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۱) مذاق ، تمسخر صحت نیت میں فرق ڈالتا ہے اور ماموروں کے لئے تو یہ سنت چلی آئی ہے کہ لوگ ان پر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں مگر حسرت ہنسی کرنے والوں ہی پر رہ جاتی ہے چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا ہے یحسرةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - نا واقف انسان نہیں جانتا کہ اصل حقیقت کیا ہے وہ ہنسی اور مذاق میں ایک بات کو اڑانا چاہتا ہے مگر تقویٰ ہے جو اسے راہِ حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۷ مورخہ ۲۱ رفروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳) گورنمنٹ کا ادنی چپراسی وصول لگان کے واسطے آجاوے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرتا اور اگر کرے تو گورنمنٹ کا باغی ٹھیرتا ہے اور سزا پاتا ہے مگر خدائی گورنمنٹ کی لوگ پروانہیں کرتے۔ خدا سے آنے والے لاریب غربت کے لباس میں ہوتے ہیں ۔ لوگ ان کو حقارت اور تمسخر سے دیکھتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ۔ اللہ تعالیٰ سچا ہے وہ جھوٹ نہیں کہتا کہ آدم سے لے کر اخیر تک جتنے بھی نبی آئے ہیں ان تمام سے ہنسی ٹھٹھا کیا گیا ہے مگر جب وقت گزر جاتا ہے پھر لگتے ہیں تعریفیں کرنے ۔۔۔۔ اسی منہاج پر مجھے بھی تمام پنجاب اور ہندوستان کے علماء نے کافر ، دجال، فاسق ، فاجر وغیرہ کے خطاب دیتے ہیں۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۴) ان لوگوں نے کوئی ہمیں ہی یہ گالیاں نہیں دیں بلکہ یہ معاملہ تمام انبیاء کے ساتھ اسی طرح چلا آیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کذاب، ساحر ، مجنون ، مفتری وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھا اور انجیل کھول کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسی سے بھی ایسا ہی برتاؤ کیا گیا۔ حضرت موسی کو بھی گالیاں دی گئی تھیں ۔ اصل میں تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُم والی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ کوئی بھی ایسا سچا نبی نہیں آیا کہ آتے ہی اس کی عزت کی گئی ہو۔ ہم کیوں کرسنت اللہ سے باہر ہو سکتے ہیں ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۸ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه (۴) - وَالْقَمَرَ قَدَّرُ لَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ) (۴۱) بعض نیم ملا میرے پر اعتراض کر کے کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خوشخبری دے