تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 362
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۲ سورة الحديد الْمَصَالِحِ الْإِلَهِيَّةِ وَتَخْلِيْصِ النَّاسِ مِنْ مطابق عفو، انتقام، محبت اور دشمن محبت اور دشمنی کی طرف مائل ہونے مَيْلِ النَّفْسِ بِهَوَاهَا إِلَى الْعَفْوِ وَالْاِنْتِقَامِ سے نجات دلانے کا سامان ہے کیونکہ شریعتِ فطریہ جو وَالْمَحَبَّةِ وَالْمَعَادَاةِ۔ فَإِنَّ الشَّرِيعَةَ الْفِطْرِيَّةَ انسان کی تمام طاقتوں سے کام لیتی ہے وہ نہیں الَّتِي تَسْتَخْدِمُ قُوَى الْإِنْسَانِ كُلَّهَا لَا تَرْضَی چاہتی کہ اس کی تمام طاقتیں صرف ایک قوت کی بِأَنْ تَكُونَ خَادِمَةً لِقُوَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا تُقَيِّدُ خادم بن کر رہ جائیں ۔ اور نہ وہ انسان کے اخلاق أَخْلَاقَ الْإِنْسَانِ فِي دَائِرَةِ الْعَفْوِ فَقَط وَلَا فِي کو صرف عفو کے دائرہ میں یا انتظام کے دائرہ میں دَائِرَةِ الْإِنْتِقَامِ فَقَط بَلْ تَحْسِبُهُ سَجِيَّةً غَيْرَ پابند کرتی ہے ۔ بلکہ وہ اس کو ناپسندیدہ خصلت قرار مَرْضِيَّةٍ، وَتُؤْتِي كُلَّ قُوَّةٍ حَقَّهَا عِنْدَ مَصْلِحَةٍ دیتی ہے ۔ اور ہر قوت کو مصلحت اور ضرورت دَاعِيَةٍ وَضُرُورَةٍ مُقْتَضِيَّةٍ، وَتُغَيَّرُ حُكْمَ کے مطابق پورا پورا حق دیتی ہے اور اور وقتی مع وقتی مصلحتوں الْعَفْوِ وَالْانْتِقَامِ وَالْمُصَافَاةِ وَالْمُعَادَاةِ کے تغیرات کے ساتھ ساتھ عفو اور انتقام اور صلح اور بَحَسْبِ تَغَيَّرَاتِ الْمَصَالِحِ الْوَقْتِيَّةِ۔ وَهَذَا دشمنی کے حکم کو بدلتی ہے اور یہ نفس اور اس کی هُوَ الْمَوْتُ مِنَ النَّفْسِ وَالْهَوَى وَالْجَذَبَاتِ خواہشات اور جذبات کی مکمل موت ہے اور یہی النَّفْسَانِيَّةِ وَدَخُولُ فِي الْفَانِينَ۔ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۰۹،۳۰۸) فنا شدہ لوگوں میں داخل ہونا ہے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) اِس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ایک انسان خدا کی اولیت کا مظہر تھا اور ایک انسان خدا کی آخریت کا مظہر ہوگا۔ اور لازم تھا کہ دونوں انسان ایک صفت میں برعایت خصوصیات متحد ہوں پس جبکہ آدم نر اور مادہ پیدا کیا گیا اور ایسا ہی شیث کو بھی تو چاہیئے تھا کہ آخری انسان بھی نر اور مادہ کی شکل پر پیدا ہو۔ اس لئے قرآن کے حکم کے رو سے وہ وعدہ کا خلیفہ اور خاتم الخلفاء جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہنا چاہیئے اسی طور سے پیدا ہونا ضروری تھا کہ وہ تو ام کی طرح تولد پاوے ۔ اس طرح سے کہ پہلے اس سے لڑکی نکلے اور بعد اس کے لڑکا خارج ہو۔ تا وہ خاتم الولد ہو۔ ( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۸۵،۴۸۴) خدا سب سے پہلے ہے اور باوجود پہلے ہونے کے پھر سب سے آخر ہے اور وہ سب سے زیادہ ظاہر ہے اور پھر باوجود سب سے زیادہ ظاہر ہونے کے سب سے پوشیدہ ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۱۹، ۱۲۰)