تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 355
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۵۵ سورة الواقعة ( تفسیر قرآن کریم کے معیار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔) چوتھا معیار خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے۔کیونکہ نفسِ مطہرہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی قرآن کریم کے حقائق صرف اُن پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں۔کیونکہ مطہر القلب انسان پر قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسبت کھل جاتے ہیں اور وہ اُن کو شناخت کر لیتا ہے اور سونگھ لیتا ہے۔اور اُس کا دل بول اُٹھتا ہے۔کہ ہاں یہی راہ سچی ہے۔اور اُس کا نور قلب سچائی کی پر کچھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے۔پس جب تک انسان صاحب حال نہ ہو اور اس تنگ راہ سے گزرنے والا نہ ہو جس سے انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں۔تب تک مناسب ہے کہ گستاخی اور تکبر کی جہت سے مفسر القرآن نہ بن بیٹھے ورنہ وہ تفسیر بالرائے ہوگی جس سے نبی علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور کہا ہے کہ مَنْ فَسَّرَ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَد أَخْطَاً یعنی جس نے صرف اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی۔اور اپنے خیال میں اچھی کی۔تب بھی اُس نے بری تفسیر کی۔( بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۹،۱۸) میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہی سچ بات ہے کہ خدا کا کلام سمجھنے کے لئے اوّل دل کو ایک نفسانی جوش سے پاک بنانا چاہئے تب خدا کی طرف سے دل پر روشنی اُترے گی۔بغیر اندرونی روشنی کے اصل حقیقت نظر نہیں آتی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لا يمشةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔یعنی یہ پاک کا کلام ہے۔جب تک کوئی پاک نہ ہو جائے وہ اس کے بھیدوں تک نہیں پہنچے گا۔میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا اور اگر لوگ چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ میں دنیا داری کے کاموں میں نہیں پڑا اور دینی شغل میں ہمیشہ میری دلچپسی رہی۔میں نے اس کلام کو جس کا نام قرآن ہے نہایت درجہ تک پاک اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا پایا نہ وہ کسی انسان کو خدا بنا تا اور نہ روحوں اور جسموں کو اس کی پیدائش سے باہر رکھ کر اس کی مذمت اور نند یا کرتا ہے اور وہ برکت جس کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے اُس کو یہ کلام آخر انسان کے دل پر وارد کر دیتا ہے اور خدا کے فضل کا اس کو مالک بنا دیتا ہے۔پس کیوں کر ہم روشنی پا کر پھر تاریکی میں آویں اور آنکھیں پا کر پھر اندھے بن جاویں۔سناتن دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۷۴،۴۷۳) مسیح موعود اور مہدی کا کام یہی ہے کہ وہ لڑائیوں کے سلسلہ کو بند کرے گا اور قلم۔دعا۔توجہ سے اسلام کا بول بالا کرے گا اور افسوس ہے کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اس لئے کہ جس قدر توجہ دنیا کی طرف ہے دین