تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 344

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ سورة الرحمن لیکھر لا ہو، رروحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۵۸) پر مقدم کرلیا۔انسان کے لئے دو جنت ہیں۔جو شخص خدا سے پیار کرتا ہے کیا وہ ایک جلنے والی زندگی میں رہ سکتا ہے؟ جب اس جگہ ایک حاکم کا دوست دنیوی تعلقات میں ایک قسم کی بہشتی زندگی میں ہوتا ہے تو کیوں نہ ان کے لئے دروازہ جنت کا کھلے جو اللہ کے دوست ہیں، اگر چہ دنیا پر از تکلیف ومصائب ہے لیکن کسی کو کیا خبر وہ کیسی لذت اٹھاتے ہیں؟ اگر ان کو رنج ہو تو آدھ گھنٹہ تکلیف اٹھانا بھی مشکل ہے، حالانکہ وہ تو تمام عمر تکلیف میں رہتے ہیں۔ایک زمانہ کی سلطنت ان کو دے کر ان کو اپنے کام سے روکا جاوے تو وہ کب کسی کی سنتے ہیں؟ اس طرح خواہ مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں وہ اپنے ارادہ کو نہیں چھوڑتے۔ہمارے ہادی کامل کو یہ دونوں باتیں دیکھنی پڑیں۔ایک وقت تو طائف میں پتھر برسائے گئے۔ایک کثیر جماعت نے سخت سے سخت جسمانی تکلیف دی لیکن آنحضرت کے استقلال میں فرق نہ آیا۔جب قوم نے دیکھا کہ مصائب وشدائد سے ان پر کوئی اثر نہ پڑا تو انہوں نے جمع ہو کر بادشاہت کا وعدہ دیا۔اپنا امیر بنانا چاہا۔ہر ایک قسم کے سامان آسائش مہیا کر دینے کا وعدہ کیا۔حتی کہ عمدہ سے عمدہ بی بی بھی۔بدیں شرط کہ حضرت بتوں کی مذمت چھوڑ دیں۔لیکن جیسے کہ طائف کی مصیبت کے وقت ویسی ہی اس وعدہ بادشاہت کے وقت حضرت نے کچھ پروانہ کی اور پتھر کھانے کو ترجیح دی۔سو جب تک خاص لذت نہ ہو، تو کیا ضرورت تھی کہ آرام چھوڑ کر دکھوں میں پڑتے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۶، ۳۷) جو شخص خدا تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا۔اس کے واسطے دو بہشت ہیں۔یعنی ایک بہشت تو اسی دُنیا میں مل جاتا ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ کا خوف اُس کو برائیوں سے روکتا ہے اور بدیوں کی طرف دوڑ ناول میں ایک اضطراب اور قلق پیدا کرتا ہے۔جو بجائے خود ایک خطرناک جہنم ہے لیکن جو شخص خدا کا خوف کھاتا ہے تو وہ بدیوں سے پر ہیز کر کے اس عذاب اور درد سے تو دم نقد بچ جاتا ہے جو شہوات اور جذبات نفسانی کی غلامی اور اسیری سے پیدا ہوتا ہے اور وہ وفاداری اور خدا کی طرف جھکنے میں ترقی کرتا ہے جس سے ایک لذت اور سرور اُسے دیا جاتا ہے اور یوں بہشتی زندگی اسی دنیا سے اُس کے لیے شروع ہو جاتی ہے اور اسی طرح پر اس کے خلاف کرنے سے جہنمی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۲ء صفحه ۴) انسان بہت بڑی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے اس لئے آخرت کی فکر کرنی چاہیے اور اس کی طیاری ضروری