تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 339

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ سورة الرحمن ہم نے یاد کرنے کے لیے قرآن شریف کو آسان کر دیا ہے۔قياتي الاء ربكما تكذبين بار بار توجہ دلانے کے واسطے ہے۔اس تکرار پر نہ جاؤ۔قرآن شریف میں اور بھی تکرار ہے۔میں خود بھی تکرار کو اسی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔میری تحریروں کو اگر کوئی دیکھتا ہے تو وہ اس تکرار کو بکثرت پائے گا۔حقیقت سے ناخبر انسان اس کو منافی بلاغت سمجھ لے گا۔اور کہے گا کہ یہ بھول کر لکھا ہے حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید پڑھنے والا پہلے جو کچھ لکھا ہے اُسے بھول گیا ہو۔اس لیے بار بار یاد دلاتا ہوں تا کہ کسی مقام پر تو اس کی آنکھ کھلے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالشَّيَاتِ علاوہ بریں تکرار پر اعتراض ہی بے فائدہ ہے۔اس لیے کہ یہ بھی تو انسانی فطرت میں ہے کہ جب تک بار بار ایک بات کو دہرائے نہیں وہ یاد نہیں ہوتی۔سُبحان ربی الاعلیٰ اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ بار بار کیوں کہلوایا ؟ ایک بار ہی کافی تھا۔نہیں۔اس میں یہی سر ہے کہ کثرت تکرارا اپنا ایک اثر ڈالتی ہے اور غافل سے غافل قوتوں میں بھی ایک بیداری پیدا کر دیتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( الجمعة : ١١ ) یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تم فلاح پا جاؤ۔جس طرح پر ذہنی : تعلق ہوتا ہے اور کثرت تکرار ایک بات کو حافظہ میں محفوظ کر دیتی ہے۔اسی طرح ایک روحانی تعلق بھی ہے اس میں بھی تکرار کی حاجت ہے۔بدوں تکرار وہ روحانی پیوند اور رشتہ قائم نہیں رہتا۔۔۔۔حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک آیت اتنی مرتبہ پڑھتا ہوں کہ وہ آخر وحی ہو جاتی ہے۔صوفی بھی اسی طرف گئے ہیں اور واذكروا اللهَ كَثِبُوا کے یہ معنے ہیں کہ اس قدر ذکر کرو کہ گویا اللہ تعالیٰ کا نام کنٹھ ہو جاوے۔انبیاء علیہم السلام کے طرز کلام میں یہ بات عام ہوتی ہے کہ وہ ایک امر کو بار بار اور مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ان کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ تا مخلوق کو نفع پہنچے۔میں خود دیکھتا ہوں اور میری کتابیں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اگر چار صفحے میری کسی کتاب کے دیکھے جاویں تو ان میں ایک ہی امر کا ذکر پچاس مرتبہ آئے گا اور میری غرض یہی ہوتی ہے کہ شاید پہلے مقام پر اس نے غور نہ کیا ہو اور یونہی سرسری طور سے گزر گیا ہو۔قرآن شریف میں اعادہ اور تکرار کی بھی یہی حکمت ہے۔یہ تو احمقوں کی خشک منطق ہے جو کہتے ہیں کہ بار بار تکرار سے بلاغت جاتی رہتی ہے۔وہ کہتے رہیں۔قرآن شریف کی غرض تو ایک بیمار کا اچھا کرنا ہے۔وہ تو ضرور ایک مریض کو بار بار دوا دے گا۔اگر یہ قاعدہ صحیح نہیں تو پھر ایسے معترض جب کوئی ان کے ہاں بیمار