تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 327

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ر ۳۲۷ سورة القمر جانتا اور سمجھتا اور آسمانی باتوں پر رائے زنی کرتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۸۸ تا ۹۱) یہ سچی بات ہے کہ خدائے تعالیٰ غیر معمولی طور پر کوئی کام نہیں کرتا۔اصل بات یہ ہے کہ وہ خلق اسباب کرتا ہے خواہ ہم کو ان اسباب پر اطلاع ہو یا نہ ہوا الغرض اسباب ضرور ہوتے ہیں۔اس لئے شق القمر یا نَارُ كُوني بردا وسلاما کے منجزات بھی خارج از اسباب نہیں بلکہ وہ بھی بعض مخفی در مخفی اسباب کے نتائج ہیں اور نیچے اور حقیقی سائنس پر مبنی ہیں۔کوتاہ اندیش اور تاریک فلسفہ کے دلدادہ اسے نہیں سمجھ سکتے۔مجھے تو یہ حیرت آتی ہے کہ جس حال میں یہ ایک امر مسلم ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا تو نادان فلاسفر کیوں ان اسباب کی بے علمی پر جو ان معجزات کا موجب ہیں اصل معجزات کی نفی کی جرات کرتا ہے۔ہاں ہمارا یہ۔مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اپنے کسی بندے کو ان اسباب مخفیہ پر مطلع کر دے۔لیکن یہ کوئی لازم بات نہیں۔دیکھو انسان اپنے لئے جب گھر بناتا ہے تو جہاں اور سب آسائش کے سامانوں کا خیال رکھتا ہے سب سے پہلے اس امر کو بھی ملحوظ رکھ لیتا ہے کہ اندر جانے اور باہر نکلنے کے لئے بھی کوئی دروازہ بنالے۔اور اگر زیادہ ساز وسامان ہاتھی گھوڑے گاڑیاں بھی پاس ہیں تو علی قدر مراتب ہر ایک چیز اور سامان کے نکلنے اور جانے کے واسطے دروازہ بناتا ہے نہ یہ کہ سانپ کی بانبی کی طرح ایک چھوٹا سا سوراخ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے فعل یعنی قانون قدرت پر ایک وسیع اور پر غور نظر کرنے سے ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے اپنی مخلوق کو پیدا کر کے یہ کبھی نہیں چاہا کہ وہ عبودیت سے سرکش ہو کر ربوبیت سے متعلق نہ ہو۔ربوبیت نے عبودیت کو دور کرنے کا ارادہ کبھی نہیں کیا۔سچا فلسفہ یہی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۳۸،۱۳۷) بڑا عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاشق القمر تھا اور شق القمر دراصل ایک قسم کا خسوف ہی تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے سے ہوا۔الخام جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۲) اس سوال کے جواب میں کہ قرب قیامت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ) قرآن میں بھی ہے اقتَرَبَتِ السَّاعَةُ اور ایسی دیگر آیات۔پس سمجھ سکتے ہو کہ قرب کے کیا معنے ہیں۔قرب الساعة کے جو نشانات تھے وہ تو ظاہر ہو چکے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی ہولناک واقعہ پیش آتا تو فرماتے کہ قیامت آگئی۔( بدر جلدے نمبرے مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۸ء صفحه ۳)