تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 322

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۲ سورة القمر پھر ان سب باتوں کے بعد ہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ شق القمر کے واقعہ پر ہندوؤں کی معتبر کتابوں میں بھی شہادت پائی جاتی ہے مہا بھارتہہ کے دھرم پرب میں بیاس جی صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو کر پھر مل گیا تھا۔اور وہ اس شق قمر کو اپنے بے ثبوت خیال سے بسو امتر کا معجزہ قرار دیتے ہیں لیکن پنڈت دیانند صاحب کی شہادت اور یوروپ کے محققوں کے بیان سے پایا جاتا ہے کہ مہا بھارتہ وغیرہ پیران کچھ قدیم اور پرانے نہیں ہیں بلکہ بعض پرانوں کی تالیف کو تو صرف آٹھ سو یا نوسو برس ہوا ہے۔اب قرین قیاس ہے کہ مہا بھارتہہ یا اس کا واقعہ بعد مشاہدہ واقعہ شق القمر جو معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھا لکھا گیا اور بسوا متر کا نام صرف بے جا طور کی تعریف پر جیسا کہ قدیم سے ہندوؤں کے اپنے بزرگوں کی نسبت عادت ہے درج کیا گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت ہندوؤں میں مؤلف تاریخ فرشتہ کے وقت میں بھی بہت کچھ پھیلی ہوئی تھی کیونکہ اس نے اپنی کتاب کے مقالہ یاز دہم میں ہندوؤں سے یہ شہرت یافت نقل لے کر بیان کی ہے کہ شہر د ہار کہ جو متصل دریائے پہنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے اب اس کو شاید د بارانگری کہتے ہیں واں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا تھا ایکبارگی اس نے دیکھا کہ چاند دوٹکڑے ہو گیا اور پھر مل گیا اور بعد تفتیش اس راجہ پر کھل گیا کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے تب وہ مسلمان ہو گیا۔اس ملک کے لوگ اس کے اسلام کی وجہ یہی بیان کرتے تھے اور اس گرد نواح کے ہندوؤں میں یہ ایک واقعہ مشہور ہ تھا جس بنا پر ایک محقق مؤلف نے اپنی کتاب میں لکھا۔بہر حال جب آریہ دیس کے راجوں تک یہ خبر شہرت پا چکی ہے اور آریہ صاحبوں کے مہا بہار تہہ میں درج بھی ہو گئے اور پنڈت دیا نند صاحب پرانوں کے زمانہ کو داخل زمانہ نبوی سمجھتے ہیں اور قانون قدرت کی حقیقت بھی کھل چکی تو اگر اب بھی لالہ مرلید ھر صاحب کو شق القمر میں کچھ تامل باقی ہو تو ان کی سمجھ پر ہمیں بڑے بڑے افسوس رہیں گے۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۲۱ تا ۱۲۷) درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے۔۔۔معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوشق القمر ہے۔اسی الہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آگیا تھا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۵ ،۶۶)