تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 321
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۱ سورة القمر کب چاند کو دوٹکڑے کر کے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے مونہہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور مونہہ بند رکھا یاں تک کہ اس عالم سے گزر گئے کیا ان کی یہ خاموشی جو ان کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل بر خلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجر ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی یہ مجزہ مکہ میں ظہور میں آیا تھا اور مسلمان ابھی بہت کمزور اور غریب اور عاجز تھے پھر تعجب یہ کہ ان کے بیٹوں یا پوتوں نے بھی انکار میں کچھ زبان کشائی نہ کی حالانکہ ان پر واجب ولازم تھا کہ اتنا بڑا دعویٰ اگر افتر محض تھا اور صد ہا کوسوں میں مشہور ہو گیا تھا اس کی رڈ میں کتابیں لکھتے اور دنیا میں شائع اور مشہور کرتے اور جبکہ ان لاکھوں آدمیوں عیسائیوں، عربوں، یہودیوں ، مجوسیوں وغیرہ میں سے رو لکھنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی اور جو لوگ مسلمان تھے وہ علانیہ ہزاروں آدمیوں کے رو برو چشم دید گواہی دیتے رہے جن کی شہادتیں آج تک اس زمانہ کی کتابوں میں مندرج پائی جاتی ہیں تو یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ مخالفین ضرور شق القمر مشاہدہ کر چکے تھے اور رڈ لکھنے کے لئے کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی تھی اور یہی بات تھی جس نے ان کو منکرانہ شور و غوغا سے چپ رکھا تھا سو جبکہ اسی زمانہ میں کروڑ ہا مخلوقات میں شق القمر کا معجزہ شیوع پا گیا مگر ان لوگوں نے مجلت زدہ ہوکر اس کے مقابلہ پر دم بھی نہ مارا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے مخالفین اسلام کا چپ رہنا شق القمر کے ثبوت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے ابطال کی۔کیونکہ اس بات کا جواب مخالفین اسلام کے پاس کوئی نہیں کہ جس دعوی کا ردا نہیں ضرور لکھنا چاہئے تھا انہوں نے کیوں نہیں لکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معمولی درویش یا گوشہ نشین نہیں تھے تا یہ عذر پیش کیا جائے کہ ایک فقیر صلح مشرب جس نے دوسرے مذاہب پر کچھ حملہ نہیں کیا چشم پوشی کے لائق تھا بلکہ آں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عام مخالفین کا جہنمی ہونا بیان کرتے تھے اس صورت میں مطلق طور پر جوش پیدا ہونے کے موجبات موجود تھے۔ماسوا اس کے یہ بھی کچھ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ واقعہ شق القمر پر جو چند سیکنڈ سے کچھ زیادہ نہیں تھا ہر ایک ولایت کے لوگ اطلاع پا جائیں کیونکہ مختلف ملکوں میں دن رات کا قدرتی تفاوت اور کسی جگہ مطلع ناصاف اور پر غبار ہونا اور کسی جگہ ابر ہونا ایسا ہی کئی اور ایک موجبات عدم رویت ہو جاتے ہیں اور نیز بالطبع انسان کی طبیعت اور عادت اس کے برعکس واقع ہوئی ہے کہ ہر وقت آسمان کی طرف نظر لگائے رکھے بالخصوص رات کے وقت جو سونے اور آرام کرنے ا کا اور بعض موسموں میں اندر بیٹھنے کا وقت ہے ایسا التزام بہت بعید ہے۔