تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 320

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲ سورة القمر زمین نہ وبالا ہوگئی ہے مگر پھر بھی انتظام عالم میں فتور واقع نہیں ہوا حالانکہ جیسے چاند کو اس انتظام میں دخل ہے ویسا ہی زمین کو غرض یہ ملحدانہ شکوک انہیں لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے جیسا ایک ضعیف اور کمزور اور محمد ود الطاقت خیال کر لیتے ہیں اگر خدائے تعالیٰ پر اس قسم کے اعتراضات وارد ہو سکتے ہیں تو پھر کسی طور سے عقل تسلی نہیں پکڑ سکتی کہ یہ بڑے بڑے اجرام علوی وسفلی کیوں کر اور کن ہتھیاروں سے اس نے بناڈالے۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱۸ تا ۱۲۱) جس حالت میں چاند کے دوٹکڑہ کرنے کا دعوی زور شور سے ہو چکا تھا یاں تک کہ خاص قرآن شریف میں مخالفوں کو الزام دیا گیا کہ انہوں نے چاند کو دوٹکڑے ہوتے دیکھا اور اعراض کر کے کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔اور پھر یہ دعوی نہ صرف عرب میں بلکہ اسی زمانہ میں تمام ممالک روم و شام و مصر و فارس و غیره دور دراز ممالک میں پھیل گیا تھا تو اس صورت میں یہ بات کچھ تعجب کا محل نہ تھا کہ مختلف قو میں جو مخالف اسلام تھیں وہ دم بخود اور خاموش رہتیں اور بوجہ عناد و بغض و حسد شق القمر کی گواہی دینے سے زبان بند رکھتیں کیونکہ منکر اور مخالف کا دل اپنے کفر اور مخالفت کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ وہ مخالف مذہب کی تائید میں کتابیں لکھے یا اس کے معجزات کی گواہی دیوے۔ابھی تازہ واقعہ ہے کہ لالہ شرمپت و ملا وامل آریه ساکنان قادیان و چند دیگر آپ کے آریہ بھائیوں نے قریب ۷۰ کے الہامی پیشگوئیاں اس عاجز کی بچشم خود پوری ہوتی دیکھیں جن میں پنڈت دیا نند کی وفات کی خبر بھی تھی۔چنانچہ اب تک چند تحریری اقرار بعضوں کے ہمارے پاس موجود پڑے ہیں لیکن آخر قوم کے طعن ملامت سے اور نیز ان کی اس دھمکی سے کہ ان باتوں کی شہادت سے اسلام کو تائید پہنچے گی اور وہ امر ثابت ہوگا کہ جس میں پھر وید کی بھی خیر نہیں ڈر کر مونہ بند کر لیا اور ناراستی سے پیار ا کر کے راستی کی شہادت سے کنارہ کش ہو گئے سو مخالف ہونے کی حالت میں اگر کوئی ادائے شہادت سے خاموش رہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اگر مخالف کی طرف سے ایک دعویٰ کا جھوٹا ہونا کھل جائے تو پھر جھوٹ کی اشاعت کے لئے قلم نہ اٹھا ئیں اور دروغ گو کو اس کے گھر تک نہ پہنچائیں سو میں پوچھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے عام اور علانیہ طور پر یہ دعویٰ مشہور کر دیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آ گیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دعوی میں بچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرت جو اسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبر یں گویا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے