تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 319

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۹ سورة القمر تصرفات خارجیہ۔یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں۔انہیں میں سے معجزہ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۰ حاشیه ) شق القمر بھی ہے۔تصرفات خارجیہ کے معجزات قرآن شریف میں کئی نوع پر مندرج ہیں۔ایک نوع تو یہی ہے کہ جو دُعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو دوٹکڑے سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۳، ۶۴ حاشیه ) کر دیا۔اگر کسی کی خودا اپنی ہی عقل میں فتور نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی چیز کے ایک نئے خاصہ کا ظہور میں آنا اس کے پہلے خاصہ کے ابطال کے لئے ایک لازمی امر نہیں ہے سو اسی قاعدہ کے رو سے دانشمند لوگ جو خدائے تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں سے ہمیشہ ہیبت زدہ رہتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ حکیم مطلق جس کی حکمتوں کا انتہا نہیں اس کی طرف سے قمر وشمس میں ایسی خاصیت مخفی ہونا ممکن ہے کہ باوجود انشقاق کے ان کے فعل میں فرق نہ آوے اسی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ نزدیک آگئی وہ گھڑی اور پھٹ گیا چاند۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ روز ازل سے حکیم مطلق نے ایک خاصہ مخفی چاند میں رکھا ہوا تھا کہ ایک ساعت مقررہ پر اس کا انشقاق ہوگا اور یہ ظاہر ہے کہ نجوم اور شمس اور قمر کے خواص کا ظہور ساعات مقررہ سے وابستہ ہے اور ساعات کو حدوث عجائبات سماوی وارضی میں بہت کچھ دخل ہے اور حقیقت میں قوانین قدرتیہ کا شیرازہ انہیں ساعات سے باندھا گیا ہے سو کیا عمدہ اور پر حکمت اور فلسفیانہ اشارہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے آیت مندرجہ بالا میں فرمایا کہ چاند کے پھٹنے کی جو ساعت مقرر اور مقدر تھی وہ نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے آگے بھی فرماتا ہے وَ كَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُم وَكُلُّ أمرٍ مُسْتَقِر یعنی کفار نے تو چاند پھٹنے کو سحر پر حمل کیا اور تکذیب کی مگر یہ سحر نہیں ہے بلکہ خدائے تعالیٰ کے ان امور یعنی قوانین قدرتیہ میں سے ہے جو اپنے اپنے وقتوں میں قرار پکڑنے والے ہیں اور عقلمند انسان اس نشان قدرت سے کیوں تعجب کرے کیا اللہ تعالیٰ کے کارخانہ قدرت میں یہی ایک بات بالاتر از عقل ہے جو حکیموں اور فلسفیوں کی سمجھ میں نہیں آتی اور باقی تمام اسرار قدرت انہوں نے سمجھ لئے ہیں اور کیا یہ ایک ہی عقد و لاینچل ہے اور باقی سب عقدوں کے حل کرنے سے فراغت ہو چکی ہے اور کیا اللہ تعالیٰ کے عجائب کاموں میں سے یہی ایک عجیب کام ہے اور کوئی نہیں بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو اس قسم کے ہزار ہا عجائب کام اللہ تعالیٰ کے دنیا میں پائے جاتے ہیں زمین پر سخت سخت زلازل آتے رہتے ہیں اور بسا اوقات کئی میل