تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 318

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۸ سورة القمر دیتے۔علاوہ اس کے سوچنا چاہئے کہ وہ مسلمان لوگ جن کو یہ آیت سنائی گئی اور سنائی جاتی تھی وہ بھی تو ہزاروں آدمی تھے اور ہر ایک شخص اپنے دل سے یہ محکم گواہی پاتا ہے کہ اگر کسی پیر یا مرشد یا پیغمبر سے کوئی ام محض دروغ اور افتر اظہور میں آوے تو سارا اعتقاد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسا شخص ہر ایک شخص کی نظر میں برا معلوم ہونے لگتا ہے، اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا تھا اور افتر محض تھا تو چاہئے تھا کہ ہزار ہا مسلمان جو آنحضرت پر ایمان لائے تھے ایسے کذب صریح کو دیکھ کر یکلخت سارے کے سارے مرتد ہو جاتے لیکن ظاہر ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی ظہور میں نہیں آئی پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معجزہ شق القمر ضرور وقوع میں آیا تھا۔ہر ایک منصف اپنے دل میں سوچ کر دیکھ لے کہ کیا تاریخی طور پر یہ ثبوت کافی نہیں ہے کہ معجزہ شق القمر اسی زمانہ میں بحوالہ شہادت مخالفین قرآن شریف میں لکھا گیا اور شائع کیا گیا اور پھر سب مخالف اس مضمون کو سن کر چپ رہے کسی نے تحریر یا تقریر سے اس کا رڈ نہ کیا اور ہزاروں مسلمان اس زمانہ کی رویت کی گواہی دیتے رہے اور یہ بات ہم مکر رلکھنا چاہتے ہیں کہ قدرت اللہ پر اعتراض کرنا خود ایک وجہ سے انکا ر خدائے تعالیٰ ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ کی قدرت مطلقہ کو نہ مانا جائے اور حسب اصول تناسخ آریہ صاحبان یہ اعتقا در کھا جائے کہ جب تک زید نہ مرے بکر ہرگز پیدا نہیں ہوسکتا۔اس صورت میں تمام خدائی اس کی باطل ہو جاتی ہے بلکہ اعتقاد صیح اور حق یہی ہے کہ پرمیشر کو سرب شکتی مان اور قادر مطلق تسلیم کیا جائے اور اپنے ناقص ذہن اور نا تمام تجربہ کو قدرت کے بے انتہا اسرار کا محک امتحان نہ بنایا جائے ورنہ ہمہ دانی کے دعوئی پر اس قدر اعتراض وارد ہوں گے اور ایسی خجالتیں اٹھانی پڑیں گی کہ جن کا کچھ ٹھکانا نہیں۔انسان کا قاعدہ ہے کہ جو بات اپنی عقل سے بلند تر دیکھتا ہے اس کو خلاف عقل سمجھ لیتا ہے حالانکہ بلند تر از عقل ہونا شے دیگر ہے اور خلاف عقل ہونا شے دیگر۔بھلا میں ماسٹر صاحب سے پوچھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اس بات پر قادر رہتا یا نہیں کہ جس قدر اب جرم قمری مشہود ومحسوس ہے اس سے آدھے سے بھی کام لے سکتا اور اگر قادر نہیں تو اس پر عقلی دلیل جوعند العقل تسلیم ہو سکے کون سی ہے اور کس کتاب میں لکھی ہے تو جس حالت میں معجزہ شق القمر میں یہ بات ماخوذ ہے کہ ایک ٹکڑا اپنی حالت معہودہ پر رہا اور ایک اس سے الگ ہو گیا وہ بھی ایک یا آدھ منٹ تک یا اس سے بھی کم۔تو اس میں کون سا استبعاد عقلی ہے اور بفرض محال اگر استبعاد عقلی بھی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ عقل ناقص انسان کی ہر یک کام ربانی تک کب پہنچ سکتی ہے۔سرمه چشم آرسی، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۰۹ تا ۱۱۲)