تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 314
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۴ سورة القمر ہے وہ نہ صرف اعجاز بلکہ اپنی برکات و تنویرات کے رو سے اعجاز آفرین بھی ہے۔فی الحقیقت قرآن شریف اپنی ذات میں ایسی صفات کمالیہ رکھتا ہے جو اس کو خارجیہ معجزات کی کچھ بھی حاجت نہیں۔خارجیہ معجزات کے ہونے سے اس میں کچھ زیادتی نہیں ہوتی اور نہ ہونے سے کوئی نقص عائد حال نہیں ہوتا۔اس کا بازارحسن معجزات خارجیہ کے زیور سے رونق پذیر نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں آپ ہی ہزار ہا معجزات عجیب وغریبہ کا جامع ہے جن کو ہر یک زمانہ کے لوگ دیکھ سکتے ہیں نہ یہ کہ صرف گزشتہ کا حوالہ دیا جائے۔وہ ایسا ملیح الحسن محبوب ہے کہ ہر یک چیز اس سے مل کر آرائش پکڑتی ہے اور وہ اپنی آرائش میں کسی کی آمیزش کا محتاج نہیں۔ہمہ خوبان عالم را بزیور با بیا رایند تو سیمیں تن چناں خوبی که زیور با بیا رائی کہ ہا پھر ماسوا اس کے سمجھنا چاہئے کہ جو لوگ شق القمر کے معجزہ پر حملہ کرتے ہیں ان کے پاس صرف یہی ایک ہتھیار ہے اور وہ بھی ٹوٹا پھوٹا کہ شق القمر قوانین قدرتیہ کے برخلاف ہے اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اول ہم ان کے قانونِ قدرت کی کچھ تفتیش کر کے پھر وہ ثبوت تاریخی پیش کریں جو اس واقعہ کی صحت پر دلالت کرتے ہیں سو جانا چاہئے کہ نیچر کے ماننے والے یعنی قانون قدرت کے پیرو کہلانے والے اس خیال پر زور دیتے ہیں کہ یہ بات بدیہی ہے کہ جہاں تک انسان اپنی عقلی قوتوں سے جان سکتا ہے وہ بجز قدرت اور قانون قدرت کے کچھ نہیں یعنی مصنوعات و موجودات مشہودہ موجودہ پر نظر کرنے سے چاروں طرف یہی نظر آتا ہے کہ ہر یک چیز مادی یا غیر مادی جو ہم میں اور ہمارے ارد گرد یا فوق وتحت میں موجود ہے وہ اپنے وجود اور قیام اور ترتب آثار میں ایک عجیب سلسلہ انتظام سے وابستہ ہے جو ہمیشہ اس کی ذات میں پایا جاتا ہے اور کبھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔قدرت نے جس طرح پر جس کا ہونا بنا دیا بغیر خطا کے اسی طرح ہوتا ہے اور اُسی طرح پر ہوگا پس وہی سچ ہے اور اصول بھی وہی بچے ہیں جو اس کے مطابق ہیں۔میں کہتا ہوں کہ بلا شبہ یہ سب سچ مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ قدرت الہی کے طریقے اور اس کے قانون اسی حد تک ہیں جو ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں آچکے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔جس حالت میں الہی قدرتوں کو غیر محدود مانا ایک ایسا ضروری مسئلہ ہے جو اسی سے نظامِ کا رخانہ الوہیت وابستہ اور اسی سے ترقیات علمیہ کا ہمیشہ کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے تو پھر کس قدر غلطی کی بات ہے کہ ہم یہ ناکارہ حجت پیش کریں کہ جو امر ہماری سمجھ اور مشاہدہ سے باہر ہے وہ قانون قدرت سے بھی باہر ہے بلکہ جس حالت میں ہم اپنے مونہہ سے اقرار کر چکے کہ قوانین قدرتیہ غیر متناہی اور غیر محدود ہیں تو پھر ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہر ایک نئی بات جو ظہور میں آوے پہلے ہی اپنی